نابالغوں کو سگریٹ فروخت کرنے والوں کی خیر نہیں

   

تلنگانہ اینٹی نارکوٹکس بیورو کی خصوصی ٹیمیں میدان میں، دو تاجروں کی گرفتاری

حیدرآباد ۔ 15 مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ اینٹی نارکوٹکس بیورو کی جانب سے شہر میں صرف منشیات کی اسمگلنگ پر توجہ نہیں دی جارہی ہے بلکہ سگریٹ کی فروخت میں ہونے والی قانون کی خلاف ورزیوں پر بھی نظر رکھی جارہی ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں تاجرین کی جانب سے نابالغوں میں سگریٹ فروخت کرنے کی مسلسل شکایات وصول ہونے کے بعد تلنگانہ اینٹی نارکوٹکس بیورو کے ڈائرکٹر سندیپ شنڈیلیا نے خصوصی نگران ٹیمیوں کو میدان میں اتارا ہے جنہوں نے حیدرآباد کے مغرب میں واقع دو منڈلوں میں دو تاجروں کو گرفتار کیا ہے جن کے خلاف مقامی پولیس اسٹیشنس میں مقدمات درج کئے گئے ہیں۔ اینٹی نارکوٹکس بیورو کے عہدیدار گزشتہ چند برسوں سے شہر میں منشیات کا کاروبار کرنے والوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ بالخصوص کالجس اور اسکولس کے علاوہ دیگر تعلیمی اداروں پر کڑی نگاہ رکھی جارہی ہے۔ پکڑے جانے والوں کی اکثریت گانجہ استعمال کرنے والوںکی ہے۔ تھوڑے لوگ دیگر منشیات کے غلام بن رہے ہیں۔ عہدیدار طلبہ کو کونسلنگ دینے کے علاوہ اس کی وجوہات کا پتہ چلانے کیلئے اس کا گہرائی سے مطالعہ بھی کررہے ہیں جس میں انہیں اہم معلومات حاصل ہوئی ہیں۔ دیگر منشیات کا استعمال کرنے سے قبل وہ گانجہ کا استعمال کرتے تھے۔ اس سے قبل وہ پہلے سگریٹ نوشی کرتے تھے جس کے بعد اس لعنت کا شکار ہوئے ہیں۔ والدین اور خاندان کے دیگر ارکان کی جانب سے بچوں پر نگرانی نہ رکھنے کی وجہ سے نابالغ بچے آسانی سے نشے کی طرف راغب ہورہے ہیں اور مختلف وجوہات کی بناء پر اس کے عادی ہوتے ہیں۔ اس تناظر میں جوینائل جسٹس ایکٹ (جے جے اے) اور سگریٹ و دیگر تمباکو مصنوعات ایکٹ (سی اے ٹی پی اے) نابالغوں کو شراب، سگریٹ، منشیات وغیرہ کی ضرورت پر پابندی لگاتے ہیں۔ تاہم شراب کی فروخت سے متعلق ضوابط پر کسی حد تک عمل ہورہا ہے۔ سگریٹ کی فروخت کو نظرانداز کیا جارہا ہے۔ خصوصی ٹیمیں اپنے سیل فونس اور سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے مختلف مقامات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ نابالغوں کو سگریٹ فروخت کرنے والوں کی تصویرکشی کرتے ہوئے ثبوت کی بنیاد پر تاجرین کے خلاف کارروائی کررہے ہیں۔2