اوسلو : ناروے نے روس اور نیٹو کے درمیان ممکنہ جنگ کے خدشات کے تحت بڑے پیمانے پر بم شیلٹرز کی تعمیر کا منصوبہ بنایا ہے۔ دو الگ الگ پناہ گاہیں بنائی جائیں گی جن میں سے ایک لوگوں کو کیمیائی یا تابکار ہتھیاروں سے محفوظ رکھے گا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ نئی عمارتوں میں حفاظتی شیلٹرز کی تعمیر یورپ میں بڑھتی غیر یقینی صورتحال اور روسی صدر ولادیمر پوٹن کے ممکنہ اقدامات کے پیش نظر کی جا رہی ہے۔ وزیرِ انصاف ایمیلی اینگر میل نے کہا کہ بدترین حالات میں شہریوں کو محفوظ رکھنے کے لیے یہ ضروری ہے۔ 1,000 مربع میٹر سے بڑی عمارتوں میں شیلٹرز لازمی ہوں گے۔ شیلٹرز تابکار، کیمیائی اور روایتی ہتھیاروں سے تحفظ فراہم کریں گے۔ پارکنگ گیراج یا سب وے اسٹیشنز کو بھی شیلٹرز میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔لتھوانیا، لٹویا، اور ایسٹونیا بھی اپنی دفاعی حکمتِ عملی کو مضبوط کر رہے ہیں۔