امریکہ اور ایران کے مابین جنگ بندی برقرار رہ سکتی ہے ۔ ترک ومیر خارجہ کا انٹرویو میں اظہار خیال
انقرہ، 11 جولائی (یو این آئی) ترکیہ کے وزیرِ خارجہ حاقان فیدان نے کہا کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجامین نیتن یاہو کی پالیسیاں اور حکومت اسرائیل، خطے اور بین الاقوامی سلامتی کیلئے بوجھ ہیں۔ فیدان نے ایک انٹرویو میں کہا کہ نتن یاہو کی حکومت کی پالیسیاں صرف ہمارے لیے مسئلہ نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی پالیسیاں اور ان کی حکومت اور خطے کیلئے بوجھ اور بین الاقوامی سلامتی کیلئے خطرہ ہیں۔ فیدن نے انقرہ اور تل ابیب کے درمیان بیان بازی کے کھلے تصادم میں تبدیل ہونے کے امکان کو مسترد کیا ۔ انہوں نے کہا کہ آپس میں تصادم کی کوئی وجہ نہیں ہے ، ہمارے صدر رجب طیب ایردوان سلامتی و حکمت کے رہنما ہیں جو کسی کے لالچ میں نہیں آئیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ یورپی رہنما اگرچہ اب اسرائیل کے خطرے کو تسلیم کرنے لگے ہیں، مگر ابھی تک اس مسئلے سے نمٹنے کے طریقے تلاش نہیں کر پائے اور وارننگ دی کہ شام میں پیشرفت کو عدم استحکام کی طرف دھکیلنے کی کوششیں اس تاثر کو بدل سکتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ خلیج میں جنگ سے بین الاقوامی توجہ غزہ سے ہٹی ہے اور اس کے ساتھ ہی انہوں نے زور دیا کہ اسرائیل پر زیادہ بین الاقوامی دباؤ ضروری ہے تاکہ فلسطینیوں کو زیادہ بین الاقوامی انسانی امداد مل سکے ۔فیدان نے کہا کہ ترکیہ علاقائی تنازعات کو ثالثی سے حل کروانے کی منفرد حیثیت رکھتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب کو جانتے ہیں، ہم ہر تنازعہ کے اندرونی محرکات کو جانتے ہیں اس لیے میرا خیال ہے کہ ہم سب سے بہتر طور پر اس بات کو سمجھ سکتے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے اور انہیں روکنے کس طرح مدد کی جا سکتی ہے ۔ فیدان نے بتایا کہ ہمیں ایسی صورتِ حال پر واپس جانا چاہئے جہاں ہر قوم کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو پوری طرح تسلیم کیا جاتا ہو، ایران طویل عرصے سے دعویٰ کرتا آیا ہے کہ اس نے ان ملکوں میں (ذرائع) رکھنے کے ذریعے ایک پیشگیرانہ سیکیورٹی پالیسی اختیار کی ہے ، بالکل اسی طرح جیسے اسرائیلی پورے خطے میں سیکیورٹی کے نام پر قبضہ کر رہے ہیں۔اگر ہمیں نئی سیکیورٹی سمجھ بوجھ ملتی ہے جو ہر فریق کی حفاظت، سیکیورٹی، سیاسی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی ضمانت دے ، تو میرے خیال میں یہ ایران کو یہ بتانا چاہئے کہ ہم اپنے اپنے گوشوں میں واپس جا سکتے ہیں، اور ایران تمام حقیقی حقائق کو سمجھنے کے قابل پختہ ہے ۔ فیدان نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی برقرار رہ سکتی ہے ، حالانکہ امریکی صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ یہ “ختم” ہو چکی ہے ۔ انہوں نے کہا ، میرا خیال کہ دونوں فریقین کے درمیان گزرگاہ کے نفاذ کے طریقے پر بات چیت اور سمجھ بوجھ میں کمی اور غلط فہمی ہوئی ، اور یہ بھی کہا کہ ان کے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی کے ساتھ بات چیت نے انہیں مسئلے کی جڑ کو گہرائی سے سمجھنے کا موقع دیا۔انہوں نے کہا کہ کشیدگی میں کمی ہی واحد حل ہے ۔