تل ابیب، 3 جولائی (یو این آئی) اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امید ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے آئندہ ہفتہ امریکی دورے پر جانے سے قبل غزہ جنگ بندی معاہدہ ہوجائیگا ۔رپورٹس کے مطابق پہلی بار اسرائیلی حکومت جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے ۔ مجوزہ معاہدے سے متعلق اہم نکات اسرائیلی میڈیا نے جاری کر دیے ۔ میڈیا کا کہنا ہے کہ حماس نے لچک دکھائی ہے ۔ توقع ہے کہ حماس قطر اور امریکہ کی طرف سے نئی تجاویز کا جمعہ تک حتمی جواب دے گاجس کی اسرائیل پہلے ہی منظوری دے چکا ہے ۔ حماس راضی ہو تو اسرائیلی وفد مذاکرات شروع کرنے فوری دوحہ روانہ ہو جائے گا۔ میڈیا کا کہنا ہے کہ امریکہ چاہتا ہے کہ اگلے ہفتے نیتن یاہو کے دورہ واشنگٹن میں جنگ بندی کا اعلان ہو جائے ۔
تاہم جنگ بندی کا معاہدہ نہ ہونے پر بھی اسرائیل بات چیت 60 دن سے زیادہ جاری رکھنے کی ضمانت دینے کو تیار ہے ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ ذاتی طور پر حماس کو اس بات کی ضمانت دیں گے اور خود اعلان بھی کریں گے ۔رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کی تجویز میں 10 زندہ اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی ہوگی، 18 اسرائیلیوں کی لاشوں کی تین مرحلوں میں واپسی 60 دن میں ہوگی، جبکہ اسرائیل کی قید میں موجود فلسطینیوں کی رہائی پچھلی ڈیل کی طرح ہی ہوگی۔