نئی دہلی ۔ 26 اگسٹ ۔(سیاست ڈاٹ کام) ہندو تنظیم نرموہی اکھاڑا غیرضروری طورپر رام للابراجمان کی اراضی ملکیت کی درخواست کا غیرضروری مخالف ہے کیونکہ دونوں فریقین ایک ساتھ یا تو ناکام ہوں گے یا کامیاب ۔ پانچ رکنی سپریم کورٹ کی دستوری بنچ نے جو چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی قیادت میں قائم کی گئی ہے کہاکہ اکھاڑے کا بیان اہمیت رکھتا ہے ۔ اُن کا ادعا ہے کہ وہ بھگت ہیں لیکن اراضی کی ملکیت کے لئے دعویٰ کرنے والی اُن کی دوست دیوکی نندن اگروال ہیں۔ ان کی درخواست سماعت کے لئے قبول نہیں کی جانی چاہئے ۔ سپریم کورٹ نے کہاکہ نرموہی اکھاڑے کا یہ بیان عدالت کے لئے حیرت انگیز ہے کیونکہ دونوں تنظیموں کی کامیابی اور ناکامی ایک دوسرے سے مربوط ہے ۔ ایک کی ناکامی دوسرے کی بھی ناکامی ہوگی اور اگر ایک کامیاب ہوتا ہے تو دوسرا بھی کامیاب ہوگا ۔ اس لئے نرموہی اکھاڑے کو رام للا براجمان کے دعویٰ کی مخالفت نہیں کرنی چاہئے کیونکہ یہ اُس کا بھی نقصان ہوگا ۔