نریندر مودی کے دورہ سے بی جے پی اور ٹی آر ایس میں ملی بھگت بے نقاب

   

سابق وزیر محمد علی شبیر کا الزام، کانگریس برسراقتدار آنے کے بعد عوام کی بھلائی ہوگی
حیدرآباد۔/28 مئی، ( سیاست نیوز) سابق اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر نے دعویٰ کیا کہ تلنگانہ میں کانگریس کے برسر اقتدار آنے کے بعد کسانوں کی خوشحالی کا آغاز ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کو محض چند ماہ انتظار کی ضرورت ہے جس کے بعد ریاست میں کانگریس کی حکومت رہے گی۔ محمد علی شبیر نے رچہ بنڈہ پروگرام کے تحت راجم پیٹ میں مختلف پروگراموں میں شرکت کی اور کسانوں کو راہول گاندھی کی جانب سے جاری کردہ ڈیکلریشن کی تفصیلات سے واقف کرایا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت کسانوں سے دھان کی خریدی میں ناکام ہوچکی ہے۔ ریاست میں 56 لاکھ میٹرک ٹن دھان کی پیداوار ہوئی لیکن حکومت نے ابھی تک 50 فیصد دھان بھی کسانوں سے حاصل نہیں کی ہے۔ انہوں نے چیف منسٹر سے مطالبہ کیا کہ دھان کی خریدی میں تیزی پیدا کرنے کیلئے سینئر عہدیداروں کا اجلاس طلب کریں۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ کانگریس حکومت کسانوں کو 2 لاکھ روپئے تک قرض معاف کرے گی اور چھوٹے و متوسط کسانوں اور قولدار کسانوں کو فی ایکر 15 ہزار روپئے سالانہ امداد دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر نے 10 دن قبل دھان کی خریدی کے مسئلہ پر جائزہ اجلاس طلب کیا تھا۔ حکومت نے تاحال 20 لاکھ ٹن دھان بھی کسانوں سے حاصل نہیں کیا ہے۔ ہزاروں کسان دھان کے ساتھ سڑکوں اور خریدی مراکز پر عہدیداروں کے انتظار میں ہیں۔ بارش کے نتیجہ میں دھان کو بھاری نقصان ہوا ہے۔ محمد علی شبیر نے الزام عائد کیا کہ خریدی میں تاخیر کے نتیجہ میں کسان خانگی ملرس کو کم قیمت پر دھان فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر حکومت سماج کے تمام طبقات کی بھلائی میں ناکام ہوچکی ہے۔ وزیر اعظم کے حالیہ دورہ کے موقع پر ٹی آر ایس اور بی جے پی کے درمیان ملی بھگت ثابت ہوچکی ہے۔ کے سی آر، وزیراعظم کو جلسہ سے خطاب کا موقع فراہم کرنے کیلئے استقبال کے بجائے بنگلور چلے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ٹاملناڈو کے چیف منسٹر ایم کے اسٹالن نے وزیر اعظم کے دورہ سے فائدہ اٹھاکر ریاست کے لئے کئی اہم پراجکٹس حاصل کئے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں سماج کے ہر طبقہ نے کے سی آر کو بیدخل کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ ر