کانگریس کو مضبوط امیدواروں کی تلاش، باقی 8 امیدواروں کا اندرون دو یوم اعلان متوقع
حیدرآباد۔/24 مارچ، ( سیاست نیوز) کانگریس پارٹی تلنگانہ میں لوک سبھا کی 8 نشستوں کیلئے مضبوط امیدواروں کی تلاش میں ہے۔ پارٹی نے تلنگانہ کی 17 کے منجملہ 9 حلقہ جات کیلئے امیدواروں کے ناموں کا اعلان کردیا ہے باقی حلقہ جات کیلئے قائدین میں مسابقت کو دیکھتے ہوئے یہ معاملہ ہائی کمان پر چھوڑ دیا گیا۔ باوثوق ذرائع کے مطابق سنٹرل الیکشن کمیٹی کا ہولی تہوار کے فوری بعد اجلاس منعقد ہوگا جس میں باقی 8 ناموں کو قطعیت دی جائے گی۔ اسی دوران چیف منسٹر ریونت ریڈی نے ٹکٹ کے خواہشمند قائدین سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کیا ہے تاکہ انہیں دعویداری سے روکا جاسکے۔ چیف منسٹر ٹکٹ کے دعویدار قائدین کو حکومت میں نامزد عہدوں کی پیشکش کررہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ کھمم، نظام آباد اور کریم نگر نشستوں کیلئے سینئر قائدین حتیٰ کہ بعض ریاستی وزراء کی دعویداری نے چیف منسٹر کیلئے الجھن پیدا کردی ہے۔ ریونت ریڈی نے قائدین کو یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ کامیابی بنیادی مقصد ہے اور 17 میں 14 حلقوں پر کامیابی کا نشانہ مقرر کیا گیا ہے۔ ریونت ریڈی نے بی آر ایس سے شمولیت اختیار کرنے والے قائدین کو ٹکٹ دیئے جانے کی وضاحت کی اور کہا کہ ہائی کمان کی منظوری سے ڈی ناگیندر، رنجیت ریڈی اور سنیتا مہیندر ریڈی کو ٹکٹ دیا گیا ہے۔ دوسری طرف نظام آباد اور کریم نگر لوک سبھا حلقوں میں اقلیتوں کی تائید سے کانگریس پارٹی دونوں نشستیں بی آر ایس سے چھیننے کی تیاری کررہی ہے۔ پارٹی کو کریم نگر میں بنڈی سنجے اور نظام آباد میں ڈی اروند کے خلاف مضبوط امیدواروں کی تلاش ہے۔ بی جے پی کے دونوں موجودہ ارکان پارلیمنٹ کو اقلیتوں کی تائید سے شکست دی جاسکتی ہے۔ بی آر ایس نے نظام آباد میں سابق رکن اسمبلی باجی ریڈی گوردھن اور کریم نگر میں سابق ایم پی بی ونود کمار کو ٹکٹ دیا ہے۔ نظام آباد سے کے کویتا 2014 سے 2019 تک نمائندگی کرچکی ہیں۔2019 میں کویتا کو اروند نے شکست دی تھی۔ ونود کمار 2014 میں کریم نگر سے منتخب ہوئے تھے اور 2019 میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ کانگریس پارٹی دونوں حلقہ جات میں ایسے امیدواروں کی تلاش کررہی ہے جنہیں اقلیتوں کی تائید حاصل ہو۔ نظام آباد سے رکن کونسل جیون ریڈی اور رکن کونسل مہیش کمار گوڑ کے نام زیر غور ہیں۔ نظام آباد میں بی سی اور مسلم ووٹ فیصلہ کن موقف رکھتے ہیں۔ کریم نگر لوک سبھا حلقہ کیلئے پروین ریڈی کا نام زیر غور ہے جبکہ ہائی کمان ریاستی وزیر پونم پربھاکر کو امیدوار بنانے پر غور کررہا ہے۔ توقع ہے کہ 27 مارچ تک کانگریس کی تیسری فہرست جاری کردی جائے گی۔1