کلینر کی ملازمت کے نام پر دھوکہ، یوکرین سرحد پر بھیجے جانے کا خدشہ، وطن واپسی کیلئے اقدامات کی اپیل
نظام آباد۔ 29 ستمبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) روس میں ملازمت کے لیے گئے نظام آباد اور کاماریڈی اضلاع سے تعلق رکھنے والے چار نوجوان مبینہ طور پر روسی فوجی کیمپ میں پھنس گئے ہیں اور انہیں فوجی تربیت دے کر یوکرین کی سرحد پر بھیجے جانے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ نوجوانوں کے افراد خاندان نے مرکزی و ریاستی حکومتوں سے اپیل کی ہے کہ فوری اقدامات کرتے ہوئے ان کے بچوں کو بحفاظت ہندوستان واپس لایا جائے۔ تفصیلات کے مطابق تقریباً چھ ماہ قبل نظام آباد ضلع سے تعلق رکھنے والے بھوکیا رویندر، اشوک اور میگاوت پرکاش جبکہ کاماریڈی ضلع سے تعلق رکھنے والے محمد افضل خان نے ماسکو، روس میں ہیلپر کی ملازمت کے لیے ایک ایجنٹ کو تین لاکھ روپے ادا کیے تھے اور ملازمت کے سلسلے میں روس روانہ ہوئے تھے۔ متعلقہ کمپنی میں چھ ماہ تک کام کرنے کے بعد کام مکمل ہوگیا اور مزید روزگار نہ ہونے کی وجہ سے نوجوانوں نے ایک وال پوسٹر دیکھا جس میں روسی فوجی کیمپ کے گارڈن میں کلینر کی ملازمت اور دو لاکھ روپے تنخواہ کا ذکر تھا۔ نوجوانوں نے پوسٹر پر دیے گئے نمبر پر رابطہ کیا تو ایجنٹ نے انہیں بتایا کہ فوجی کیمپ میں گارڈن کلینر کی ملازمت موجود ہے۔ نوجوان اس یقین دہانی پر ایجنٹ کے ذریعہ فوجی کیمپ پہنچے، جہاں سے مبینہ طور پر فوجی اہلکاروں نے انہیں ایک فوجی گاڑی میں تقریباً 12 گھنٹے کا سفر کرانے کے بعد ایک جنگلاتی علاقے میں اتار دیا۔ نوجوانوں کا الزام ہے کہ انہیں مناسب کھانا بھی فراہم نہیں کیا گیا اور بعد ازاں ان کے ہاتھوں میں ہتھیار دے کر فوجی تربیت شروع کردی گئی۔ جب نوجوانوں نے بتایا کہ وہ فوجی ملازمت کے لیے نہیں بلکہ گارڈن کلینر کے طور پر کام کرنے آئے ہیں تو مبینہ طور پر انہیں مارپیٹ تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور زبردستی فوجی تربیت دی گئی۔ اہل خانہ کے مطابق نوجوانوں نے فون کالز اور ویڈیو ریکارڈنگ کے ذریعہ گھر والوں کو اطلاع دی کہ انہیں تربیت دینے کے بعد یوکرین کی سرحد پر بھیجے جانے کی بات کہی جا رہی ہے اور انہیں اندیشہ ہے کہ جنگ میں ان کی جان جاسکتی ہے۔ نوجوانوں نے اپنے اہل خانہ سے مدد کی اپیل کرتے ہوئے انہیں بچانے کی درخواست کی ہے۔ اس صورتحال پر خاندانوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے اور انہوں نے مرکزی و ریاستی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے میں فوری مداخلت کرتے ہوئے روسی حکام سے رابطہ کیا جائے اور چاروں نوجوانوں کو بحفاظت ہندوستان واپس لانے کے اقدامات کیے جائیں۔ اس سلسلے میں افضل خان کے بیٹے، اہلیہ اور والد عباس خان نے حکومت سے فوری مدد کی اپیل کی، جبکہ روس سے اشوک کی جانب سے بھی اپنی صورتحال سے متعلق پیغام اور مدد کی درخواست سامنے آئی ہے۔