’نفرت انگیز تقریر‘پر بیلگاوی کی عدالت میں راوت کی طلبی

   

بیلگاوی (کرناٹک): بیلگاوی کی ایک عدالت نے مہاراشٹرا-کرناٹک سرحدی تنازعہ کے درمیان شیوسینا (ادھو ٹھاکرے دھڑے ) کے راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ سنجے راوت کو اشتعال انگیز تقریر کے لئے طلب کیا ہے ۔عدالت نے انہیں یکم دسمبر کو طلب کیا ہے ۔ راوت نے مبینہ طور پر 30 مارچ 2018 کو کہا تھا کہ گر کرناٹک کے لوگ ایک کو نقصان پہنچاتے ہیں تو شیو سینا میں کرناٹک کی 100 بسوں کو نقصان پہنچانے کی ہمت ہے ۔انہوں نے جمہوریت پر ہجوم پرستی کی وکالت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پارٹی سرحدی مسائل پر مہاراشٹرا انٹیگریشن کمیٹی (ایم ای ایس) کے ساتھ کھڑی رہیگی۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر، کاویری اور بیلگام، کاروار اور سرحدی مسائل اس ملک میں حل طلب ہیں۔ راوت نے کہاکہ جمہوری طریقے سے الیکشن لڑنے اور جیتنے کے باوجود، اگر جمہوریت کا گلا گھونٹ دیا جاتا ہے ، تو شیوسینا کے سربراہ نے کہا ہے کہ ہجوم کی سیاست کے علاوہ کوئی متبادل نہیں ہے ۔ کرناٹک میں شیوسینا اسمبلی انتخابات لڑے گی، لیکن سرحدی علاقوں میں ہم ایم ای ایس کے ساتھ کھڑے رہیں گے ۔سمن پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مسٹر راوت نے پیر کو صحافیوں کو بتایا کہ ان پر حملہ کیا جائے گا اور انہیں گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ عدالت نے مجھے 2018 کی تقریر پر عدالت میں حاضر ہونے کے لئے کہا ہے ۔ اس کا مطلب ہے کہ مجھے عدالت جانا چاہیے اور مجھ پر حملہ ہو گا۔ یہ میری معلومات ہے ۔ مجھے وہیں گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا جائے گا۔ کرناٹک کے وزیر اعلی بسواراج بومئی نے کہا کہ موجودہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب ریاست مہاراشٹر کے جاٹ تعلقہ کے کچھ گاؤں کی طرف سے کرناٹک میں ضم ہونے کی تجویز پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ اس بیان پر جوابی حملی کرتے ہوئے مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے کہا کہ ان گاؤں کو کرناٹک کے حوالے کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ جواب میں مسٹر بومئی نے اسے ‘اشتعال انگیز’ تبصرہ قرار دیا اور مہاراشٹر کے کنڑ بولنے والے علاقوں کے لئے دعویٰ کیا۔خیال ر ہے کہ بومئی اور فڑنویس دونوں ہی بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر ہیں۔ مہاجن کمیشن کی رپورٹ کی بنیاد پر مراٹھی اور کنڑ بولنے والے علاقوں کی شمولیت اور باہر کرنے پر کرناٹک اور مہاراشٹر کے درمیان ایک طویل عرصے سے زیر التوا مسئلہ ہے ۔