نواب میر عثمان علی خاں کی برسی، مفخم جاہ بہادر کی قیادت میں خراج عقیدت

   

مسجد جودی میں محفل قرآن خوانی، قصیدہ بردہ شریف اور دعائیہ اجتماع

حیدرآباد۔2/مئی (راست) مملکت حیدرآباد کے آخری تاجدار نواب میر عثمان علی خان آصف جاہ سابع کو ان کی 60ویں برسی کے موقع پر گلہائے عقیدت کے ساتھ خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ مسجد جودی کنگ کوٹھی میں واقع مزار کے پاس قرآن خوانی، قصیدہ بردہ شریف کی محفل منعقد ہوئی۔ اوقاف کمیٹی ایچ ای ایچ دی نظامس نے اس کے انتظامات کئے تھے۔ پرنس مفخم جاہ بہادر، نواب ابو الفیض خان، جناب انیس الدین، شاہد فریدی کے علاوہ خاندان آصف جاہی اور امراء جاگیرداروں کے خاندان کے کئی افراد اس محفل میں شریک تھے۔ پرنس مفخم جاہ بہادر کی قیادت میں ساتویں نظام کی مزار پر چادر گل پیش کی گئی۔مولانا حافظ محمد رضوان قریشی امام و خطیب مکہ مسجد نے دعا کی۔ اس موقع پر ٹرسٹی مکرم جاہ ٹرسٹ فار ایجوکیشن اینڈ لرننگ اور سینئر ممبر اوقاف کمیٹی ایچ ای ایچ دی نظامس نے آصف جاہ سابع کی اپنی رعایا کے علاوہ ملک و بیرون ملک کے تعلیمی اداروں کے لئے فراخ دلانہ اعانت، رفاع عامہ کے لئے غیر معمولی اقدامات، فرقہ وارانہ اتحاد و یکجہتی کے لئے ان کی کاوشوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔ نواب میر عثمان علی خاں خاندانی آصف جاہی کے آخری فرمانروا تھے۔ 1911ء سے 1948ء تک ان کے دور حکومت میں حیدرآباد کے ہر شعبہ حیات میں ترقی کی اور ہندوستان کی دیگر ریاستوں کے مقابلے میں اس کے مقام کو بلند کیا۔ انہیں فن تعمیر سے دلچسپی تھی۔ عثمانیہ یونیورسٹی، حیدرآباد ہائی کورٹ، عثمانیہ ہاسپٹل، اسٹیٹ بینک آف حیدرآباد، حیدرآباد ایئر پورٹ تعمیر کروائے۔ ریلویز، روڈ ٹرانسپورٹ، فضائی سرویس، پوسٹ سرویس اور خود اپنی کرنسی کو متعارف کروایا۔ 1948ء میں اقتدار سے محرومی کے بعد 1950ء سے 1956ء تک راج پرمکھ رہے۔ 24/فروری (14 ذی القعدہ) 1967ء کو ان کا انتقال ہوا۔ H/M