مذہب کے بارے میں حقیقی معلومات ضروری، اُجین میں یووا دھرم سنسد سے خطاب
حیدرآباد۔18۔ستمبر (سیاست نیوز) آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے اجین میں آج یووا دھرم سنسد سے خطاب کرتے ہوئے نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ وہ اس غلط فہمی کا شکار نہ رہیں کہ ہر چیز ان کی مرضی کے مطابق ہوتی ہے۔ موہن بھاگوت نے کہا کہ سورج کی سچائی کو کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے وہ اپنی جگہ برقرار ہے۔ اگر کوئی سورج کو تسلیم نہ بھی کرے ، تب بھی وہ اپنے مقررہ وقت پر طلوع و غروب ہوتا ہے۔ انسان کو غلط فہمی اور غرور و تکبر سے بچنا چاہئے ۔ کوئی بھی یہ گمان نہ کریں کہ ہر چیز اس کی مرضی کے مطابق ہورہی ہے اور ہر چیز پر اس کا کنٹرول ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی غلط فہمی اور تکبر کے نتیجہ میں انسان اپنے آپ کو کچھ سمجھنے لگتا ہے ۔ موہن بھاگوت نے کہا کہ حقیقت اس طرح کے نظریہ کے خلاف ہے اور انسان کو اس غلط فہمی سے ابھرنا چاہئے کہ ہر چیز اس کی مرضی کے تحت انجام پاتی ہے۔ موہن بھاگوت نے کہا کہ مذہب کے بارے میں اظہار خیال کرنا آسان نہیں ہے ۔ اس کے لئے عمر بیت جائے گی لیکن دھرم کی تشریح مکمل نہیں ہوگی۔ انہوں نے ایک واقعہ سنایا جس میں مذہب کے ایک ماہر کو تقریر کے لئے مدعو کیا گیا تھا ۔ مقرر نے سامعین سے سوال کیا کہ مذہب کو جاننے کیلئے بنیادی معلومات ضروری ہے اور آپ میں کتنے لوگ ایسے ہیں جو مذہب کے بنیادی اُصولوں سے واقف ہیں۔ سامعین نے کسی نے بھی ہاتھ نہیں اٹھایا کیونکہ ہر کوئی مذہب کے بارے میں جاننا چاہتا تھا ۔ مذہب کے ماہر نے کہا کہ چونکہ کسی کو بنیادی معلومات نہیں ہے ، لہذا وہ تقریر نہیں کریں گے۔ دوسرے دن اسی موضوع پر دوبارہ مدعو کیا گیا اور انہوں نے مذہب کے بارے میں بنیادی معلومات کا سوال کیا ۔ اس مرتبہ تمام سامعین نے ہاتھ اٹھائے جس پر مقرر نے کہا کہ جب تمام لوگ واقف ہیں تو پھر میری تقریر کی کیا ضرورت ہے۔ تیسرے دن جب دوبارہ مقرر کو مذہب پر تقریر کیلئے مدعو کیا گیا تو انہوں نے سامعین سے وہی سوال دہرایا۔ اس مرتبہ سامعین کی نصف تعداد نے ہاتھ اٹھائے جس پر مقرر نے کہا کہ جن کو مذہب کے بارے میں معلومات ہیں وہ باقی لوگوں کو واقف کرادیں۔ موہن بھاگوت نے کہا کہ مذہب کے بارے میں درست معلومات حاصل کرنا ہر کسی کیلئے ضروری ہے۔1/k