تہران / واشنگٹن : نیوکلیئرپروگرام پر ایران اور امریکہ کے درمیان عمان میں بالواسطہ مذاکرات کا انکشاف ہوا ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ عمان میں گزشتہ ماہ امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات ہوئے جن کا محور ایران کا نیوکلیئرپروگرام تھا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی اور امریکی حکام علیحدہ علیحدہ کمروں میں بیٹھے تھے اور عمانی حکام دونوں وفود کے پیغامات ایک دوسرے کو پہنچانے کا کام کر رہے تھے۔رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس کے رابطہ کار برائے مشرق وسطیٰ بریٹ میک گرک خفیہ طور پر 8 مئی کو عمان پہنچے جہاں انہوں نے ایران سے نیوکلیئرپروگرام کے حوالے سے مذاکرات کے امکانات پر عمانی حکام سے بات کی۔رپورٹ میں باخبر ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسی دوران ایران سے بھی ایک وفد عمان پہنچا اور اس وفد میں ایران کے چیف نیوکلیئر مذاکرات کار علی باقری بھی شامل تھے۔ذرائع کے مطابق ایرانی و امریکی وفد کے درمیان براہ راست ملاقات نہیں ہوئی، عمانی حکام دونوں وفود کے درمیان پیغام رسانی کا کام کرتے رہے۔رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ اس دوران امریکہ نے یہ بات واضح کردی کہ اگر ایران نے ایٹم بم بنانے کیلئے درکار یورینیم کی افزودگی کی سطح 90 فیصد تک لے جانے کا سلسلہ بند نہ کیا تو اسے اس کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔خیال رہے کہ 2015 میں ایران اور 6 عالمی طاقتوں امریکا، برطانیہ، روس، فرانس، چین اور جرمنی کے درمیان نیوکلیئرمعاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت ایران نے یورینیم کی افزودگی محدود کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی جس کے بعد ایران پر عائد معاشی پابندیوں میں نرمی کی گئی تھی۔2018 میں اس وقت کے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اس معاہدہ کو ایران کو میزائل پروگرام سے باز رکھنے میں ناکام قرار دیتے ہوئے دستبرداری کا اعلان کردیا تھا۔ ایک سال بعد ایران نے بھی اپنے نیوکلیئرپروگرام پر عائد پابندیوں کو نظر انداز کرکے اس میں پیش رفت شروع کردی تھی۔