آگ زنی اور سنگباری کے واقعات ۔ کئی دوکانات کو نشانہ بنایا گیا ۔ حالات پر قابو پانے فوج کو متعین کردیا گیا
کٹھمنڈو 30 جولائی ( ایجنسیز ) نیپال میں ہندوستان کی سرحد کے قریب سونساری ضلع میں فرقہ وارانہ تشدد اب شدت اختیار کر رہا ہے اور یہ کئی علاقوں تک پھیل گیا ہے ۔ کہا گیا ہے کہ اس تشدد میں تاحال تین افراد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ کئی دوسرے زخمی بھی ہوئے ہیں۔ زخمیوں میں عام شہری ‘ احتجاجی اور سکیوریٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔ صورتحال کی سنگینی اور کشیدگی کو دیکھتے ہوئے حکام کی جانب سے کرفیو نافذ کردیا گیا ہے اور فوج کو متعین کردیا گیا ہے ۔ کہا گیا ہے کہ نیپال کے سونساری ضلع میں شروع ہوا فرقہ وارانہ تشدد اب کئی دوسرے علاقوں تک پھیل گیا ہے ۔ حکام نے کئی شہروں میں کرفیو نافذ کرتے ہوئے فوج کو متعین کردیا ہے تاکہ نظم کو بحال کیا جاسکے ۔ دو فرقوں کے مابین جھڑپوں کے بعد سون ساری ضلع کے دیوان گنج میں تشدد کا آغاز ہوا تھا ۔ اب یہ مدہیش صوبہ کے کئی علاقوں تک پھیل گیا ہے ۔ فرقہ وارانہ تشدد کے دوران آگ زنی ‘ توڑ پھوڑ اور سنگباری کے واقعات پیش آئے جبکہ سکیوریٹی فورسیس اور احتجاجیوں کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔ کئی دوکانیں اور دوسری خانگی املاک کو بھی نقصان پہونچا ہے ۔ حکام کی جانب سے تشدد کو مزید پھیلنے سے روکنے کیلئے حساس علاقوں میں تحدیدات و پابندیوں کو سخت کردیا گیا ہے ۔ اناروا ‘ جنک پور ‘ سیراہا ‘ گول بازار اور لہان علاقوں میں کرفیوں نافذ کردیا گیا ہے جبکہ دوسرے علاقوں میں تحدیدات عائد کردی گئی ہیں۔ دھنوشا ضلع میں لکشمی نیا ‘ ہاٹ بازار ‘ بیلونی روڈ ‘ ناگرائن میونسپلٹی ‘ دودھ متی برج اور جنک پور کے کچھ علاقوں میں بھی کرفیو نافذ کردیا گیا ہے ۔ حساس علاقوں میں پولیس ‘ مسلح پولیس فورس اور نیپال فوج کے اہلکاروں کو بھاری تعداد میں متعین کردیا گیا ہے ۔ مقامی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ سکیوریٹی صورتحال پر نظڑ رکھنے ہیلی کاپٹرس کا بھی استعمال کیا جا رہا ہے ۔ دیوان گنج میونسپلٹی نے مقامی سطح پر مہلوک دو افراد اوم پرکاش مہتا اور جئے پرکاش مہتا کو شہید قرار دیا ہے ۔ بحران سنگین ہونے کے بعد وزیر اعظم بالیندر شاہ نے نیپال قومی سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کرتے ہوئے صورتحال کا جائزہ لیا ۔