وادی کشمیر میں 46ویں دن بھی معمول کی سرگرمیاں مسدود

,

   

اشرار کی جانب سے دوکانداروں کو دھمکیاں دینے اور خانگی موٹر کاروں کو جلانے کے واقعات

سرینگر ۔19 ستمبر ( سیاست ڈاٹ کام) اشرار کی جانب سے دوکاندارو ں کو دھمکیاں دینے اور خانگی موٹر گاڑیوں کو نقصانات پہنچانے کے واقعات کی کشمیر کی وادی کے مختلف مقامات سے خبریں آرہی ہیں ۔ دریں اثناء جمعرات کے دن 46ویں روز بھی معمول کی سرگرمیاں معطل رہیں ۔ بعض لوگوں نے بتایا کہ کئی مقامات پر اشرار نے وادی کو زبردستی بند رکھنے کیلئے خانگی گاڑیوں پر سنگ باری کی ۔ حکام نے ان واقعات کا جائزہ لیا اور اس کے مطابق بعض کارروائیاں بھی کیں ۔ بازار پوری طرح بند رہے اور عوامی حمل و نقل اور آمد و رفت بھی روڈ پر دکھائی نہیں دی گئیں ۔ بعض لوگوں نے بتایا کہ دوکانیں صبح میں چند گھنٹوں کیلئے کھلی دیکھی گئی اور شام میں انہیں بند کردیا گیا لیکن دن میں انہیں کھولا نہیں گیا ۔ چند آٹو رکشہ اور بین ضلعی ٹیکسیاں شہر کے چند علاقوں میں دکھائی دیں ۔ بعض سرکاری عہدیداروں نے بتایا کہ انٹرنیٹ خدمات معطل رہیں جب کہ فون کی زمینی لائین کام کرتی رہیں ۔ کپواڑہ اور بنڈواڑہ میں موبائیل کال کشمیر کے شمال کے پولیس اضلاع میں کام کرتی رہیں ۔ ریاستی حکومت کی جانب سے اسکولوں کو کھول دینے کی کوششیں ثمرآور نہ ہوسکیں ۔ وادی کے بہت سے علاقوں سے پابندیاں اٹھائی گئیں لیکن نظم و نسق کی برقراری کے لئے سیکورٹی فورسیس تعینات رہیں ۔ ہر جمعہ کو حکام وادی کے بعض حساس حصوں میں تحدیدات عائد کررہے ہیں ۔ جمعہ کے دن وادی کی کسی بھی بڑی مسجد اورخانقاہ میں نماز کی اجازت نہیں دی جارہی ہے ۔ ان میں جامع مسجد اور حضرت بل کی درگاہ بھی شامل ہے ۔ جموں و کشمیر کے صف اول اور دوسرے درجہ کے سیاست داں جن میں سابق وزرائے اعلیٰ فاروق عبداللہ ، عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی شامل ہیں گھر پر نظر بند ہیں ۔ فاروق عبداللہ کو پہلے تو گھر پر نظر بند رکھا گیا

اور اس کے بعد انہیںمنگل کے دن عوامی صیانتی ایکٹ کے تحت دھر لیا گیا ۔ دیگر سابق وزراء اور ارکان مقننہ بھی گھر پر نظربند ہیں یا انہیں حراست میں رکھا گیا ہے ۔جہاں وادی بھر میں دکانیں و تجارتی مراکز دن کے وقت بند رہتے ہیں وہیں گرمائی دارالحکومت سری نگر کے کچھ حصوں میں اب نماز فجر کی ادائیگی کے بعد دکانیں کھل جاتی ہیں اور لوگ بھی یکایک ظاہر ہوکر خریداری کرتے ہیں تاہم نو بجتے ہی دکانیں فوراً بند ہوجاتی ہیں اور بازاروں میں ایک بار پھر اگلے فجر تک ہوکا عالم چھا جاتا ہے ۔ادھر سری نگر میں قائم سبزی منڈیوں میں فجر ہوتے ہی لوگوں کی اس قدر بھیڑ لگ جاتی ہے کہ صرف ایک گھنٹے کے اندر ہی ساری سبزی بک جاتی ہے جو گاہک ایک گھنٹے کے بعد منڈی میں آتا ہے تو اس کو خالی ہاتھ ہی واپس گھر لوٹنا پڑتا ہے ۔وادی میں گزشتہ زائد از ایک ماہ سے ریل خدمات بھی برابر معطل ہیں۔ ریلوے ذرائع کے مطابق وادی میں گزشتہ چار برسوں کے دوران ٹرین سروس کم وبیش ایک سال تک بند رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پانچ اگست سے تاحال ریلوے کو کئی کروڑ روپئے کا نقصان پہنچا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریل خدمات سرکاری احکامات پر معطل رکھی گئی ہیں اور مقامی انتظامیہ کی طرف سے گرین سگنل ملنے کے بعد ہی بحال کی جائیں گی۔