والدین ۔ اولاد کے ساتھ اعتماد کا رشتہ قائم کریں

   


تحفظ شرعیت کمیٹی کی مہم سے محترمہ میمونہ سلطانہ روحی کا خطاب

حیدرآباد /4 ڈسمبر ( پریس نوٹ ) ہر والدین کی یہ فطری خواہش ہوتی ہے کہ ان کی اولاد بڑے ہوکر خاندان و سوسائٹی میں ان کا نام روشن کریں ۔ انہیں خوشی و مسرت دیں ۔ اس کیلئے ماں اور باپ ، دونوں کو چاہئے کہ اپنے گھر کے ماحول کو خوشگوار اور پاکیزہ رکھیں ۔ گھر میں بسنے والے بڑے بزرگوں کا ادب و احترام کریں اور چھوٹوں پر شفقت کریں ۔ رشتوں کی اہمیت کو خود سمجھیں اور اپنی اولاد کو سمجھائیں ۔ چاہئے ننھیالی رشتہ در ہوں یا ددھیالی رشتہ دار ۔ ان کے ساتھ بہتر سلوک کریں۔ ان خیالات کا اظہار محترمہ میمومنہ سلطانہ رکن عاملہ شریعت کمیٹی نے ٹولی چوکی میں 2 ڈسمبر کو شریعت کمیٹی کی جانب سے جاری مہم ’’ نسل مسلم کی اصلاح و تربیت‘‘ کے عنوان پر منعقدہ پروگرام میں خواتین و طالبات کو مخاطب کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ گھر کا ماحول اسی وقت پاکیزہ ہوگا جبکہ والدین اپنی زبان پاکیزہ اور صاف ستھری رکھیں۔ وہ آپس میں یا گھر میں کوئی ایسی غیر اخلاقی بات اور ناشائستہ الفاظ استعمال نہ کریں۔ جس سے ان کے بچوں پر غلط اثر پڑے ۔ گالی گلوج ، غیبت ، جھوٹ سے خود بھی بچیں اور اپنے گھر و خاندان کو بھی بچائے رکھیں۔ اولاد کو فضول گوئی ، گپ شپ سے بچانا ہی اصل میں زبان کو پاکیزہ بنانا ہے ۔ جب بچے زبان زد عام الفاظ اپنے ماحول سے سیکھتے ہیں تو فوری اس پر توجہ دینا والدین کی اہم ذمہ داری ہے اور اپنے بچوں میں کسی ایسی خرابی و برائی پنپنے نہ دیں ۔ جس سے نہ صرف گھر کا ماحول خراب ہوتا ہے بلکہ معاشرہ کا پرسکون ماحول بھی برباد ہوجاتا ہے ۔ محترمہ روحی خان رکن عاملہ شریعت کمیٹی نے عنبرپیٹ کی خواتین و طالبات کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ نسل مسلم کی تربیت و اصلاح وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ۔ نسل مسلم کی تربیت کیلئے ضروری ہے کہ والدین قرآنی تعلیمات سے واقف ہوں ۔ ان کے دلوں میں اللہ کا ڈر ،۔ اللہ کی محبت اور آخرت میں جوابدہی کا تصور برقرار رہے تو ہی وہ اپنی اولاد کی تربیت و اصلاح اسلامی خطوط پر بہتر انداز میں کرسکتے ہیں۔ موجودہ دور میں جہاں سائنس و ٹکنالوجی اپنے عروج پر ہے وہیں سوشیل میڈیا کا استعمال بھی کئی گناہ بڑھ گیا ہے ۔ بچوں سے لیکر نوجوانوں تک کیلئے انٹرنیٹ کا استعمال تعلیمی و تحقیقی کاموں کیلئے بہت ضروری ہوگیا ہے ۔ مگر یہ ایجاد نہ صرف نوجوان طبقے میں بلکہ چھوٹے بچوں میں بھی بہت سی برائیوں کا ذریعہ بن گیا ہے ۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ والدین ، اولاد کے ساتھ اعتماد کا رشتہ قائم کریں اور ان سے کمپیوٹر و انٹرنیٹ ، انسٹاگرام ، ٹوئیٹر ، فیس بک پر کی جانے والی سرگرمیوں پر تبادلہ خیال کریں۔ انٹرنیٹ و سوشیل میڈیا کے وقت کو متعین کریں ۔ انٹرنیٹ و کمپیوٹر کی سرگرمیوں میں والدین جاسوس بننے کے بجائے دوست بنکر اپنی اولاد پر نظر رکھیں ۔ بعض چیزوں پر سختی کرنا ہوتو سختی کریں اور اس کا فوری حل نکالیں ۔ والدین انٹرنیٹ اور کمپیوٹر سے اتنی واقفیت ضرور حاصل کریں کہ آپ کی اپنی اولاد آپ سے جھوٹ نہ بول سکے ۔ ویسٹرن سوسائٹیز میں پرائیویسی کا ایک غلط تصور بچوں کے ذہنوں میں بٹھایا گیا ہے ۔ اس تصور سے اپنی اولاد کو بچائیں ۔ موبائل ، انٹرنیٹ دونوں وہ زہریلے ہتھیار ہیں
جن کو پرائیویسی کے نام پر استعمال کرکے بچوں کو بگاڑ اور بربادی کے راستے پر ڈالا جارہا ہے ۔ نسل مسلم کی تربیت کے متعلق خواتین کی جانب سے پوچھے گئے کئی سوالات کے تشفی بخش جوابات دئے گئے ۔