شنگھائی تعاون تنظیم سربراہ اجلاس میں شرکت‘چینی صدر سے ملاقات متوقع
نئی دہلی : وزیر اعظم نریندر مودی 15اور 16ستمبر کو ازبکستان کا دورہ کریں گے جہاں وہ شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس میں شرکت کریں گے ۔اس موقع پروزیر اعظم نریندر مودی اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ملاقات کی پیش قیاسی کی جارہی ہے۔ ایسے میں چین نے اس ممکنہ ملاقات پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ چین کا کہنا ہے کہ مشرقی لداخ کے گوگرا ہاٹ اسپرنگس علاقے میں فوجیوں کی دستبرداری ایک مثبت قدم ہے۔ آپسی کشید گیکو کم کرنا دوطرفہ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے۔ متوقع اسملاقات کے ضمن میں چین لداخ میں فوجیوں کی دستبرداری کو مثبت پیش رفت کہتا ہے۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ماؤ ننگ نے ایک بریفنگ میں بتایا کہ میرے پاس اس وقت پیش کرنے کے لیے کوئی معلومات نہیں ہیں۔ یہ پوچھے جانے پر کہ کیا ہندوستان اور چین شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) سربراہی اجلاس کے موقع پر مودی اور چینی صدرکی ممکنہ ملاقات کے دوران بات چیت ہوسکتی ہے؟ اس پر انھوں نے کوئی وضاحت نہیں کی۔ یہ دو روزہ سربراہی اجلاس سمرقند میں منعقد ہو گا۔چین اور ہندوستان شنگھائی تعاون تنظیم کے اہم رکن ہیں۔ دونوں اس سال کے سربراہی اجلاس میں ازبکستان کی حمایت کریں گے۔ دونوں جانب سے علیحدگی کے اعلان پر تبصرہ کرتے ہوئے ماؤ نے کہا کہ یہ دونوں فریقوں کے سفارتی اور عسکری اداروں کے درمیان مختلف سطحوں پر ہونے والی بات چیت کے متعدد دوروں کا نتیجہ ہے۔ یہ سرحدی علاقوں میں امن و سکون کے لیے سازگار بن سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں تنظیم کی مزید ترقی کی امید ہے۔ مودی اور صدر چین کے درمیان ملاقات کے بارے میں قیاس آرائیاں عروج پر ہیں کیونکہ ہندوستان اور چین نے جمعرات کو مشرقی لداخ کے گوگراہاٹ اسپرنگس علاقے میں پیٹرولنگ پوائنٹ 15 سے اپنے فوجیوں کو منظم اور منصوبہ بند طریقے سے ہٹانے کا اعلان کیا ہے۔ بیجنگ میں واقع ایس سی او ایک آٹھ رکنی اقتصادی اور سیکورٹی بلاک ہے جس میں چین، روس، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان، ازبکستان، ہندوستان اور پاکستان شامل ہیں۔یہ پوچھے جانے پر کہ کیا اس معاہدے کے نتیجے میں تعلقات معمول پر آئیں گے، انہوں نے کہا کہ یہ مثبت پیش رفت ہے۔ ہمیں امید ہے کہ اس سے دوطرفہ تعلقات میں بہتری آئے گی اور اس میں مزید اضافہ ہوجائے گا۔