تقریب میں شرکت کا دعوت نامہ نہیں، منوگوڑ کی شکست سے اُبھرنے کیلئے جلسہ عام
حیدرآباد۔/9نومبر ( سیاست نیوز) وزیر اعظم نریندر مودی کا 12 نومبر کو تلنگانہ کا دورہ ٹی آر ایس اور بی جے پی کے درمیان سیاسی جنگ کا سبب بن چکا ہے۔ ٹی آر ایس نے وزیر اعظم کے پروگرام میں چیف منسٹر کے سی آر کو نظرانداز کرنے کا الزام عائد کیا۔ مرکز کی جانب سے پروٹوکول کی خلاف ورزی کا بہانہ بناکر ٹی آر ایس نے بی جے پی پر سخت تنقید کی ہے۔ وزیر اعظم 12 نومبر کو راما گنڈم فرٹیلائزرس اینڈ کیمیکلس لمیٹیڈ کو قوم کے نام معنون کریں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ مرکز نے وزیر اعظم کے دورہ کے سلسلہ میں پروٹوکول کی پابندی نہیں کی اور چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو باقاعدہ مدعو کرنے کے بجائے سرسری طور پر پروگرام میں شرکت کی اطلاع دی گئی۔ اس مسئلہ پر ٹی آر ایس نے ٹوئٹر پر مرکز کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ تلنگانہ کا دعویٰ ہے کہ راما گنڈم فرٹیلائزرس اینڈ کیمیکلس لمیٹیڈ میں تلنگانہ کی حصہ داری 11 فیصد ہے اور کمپنی کے احیاء کیلئے تلنگانہ حکومت نے ہر ممکن تعاون کیا ہے باوجود اس کے چیف منسٹر کو باقاعدہ دعوت نامہ نہیں بھیجا گیا۔ ٹی آر ایس نے افتتاحی پروگرام پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ گذشتہ سال مارچ میں کمپنی میں پروڈکشن کا آغاز ہوگیا تھا اور چند ماہ گذرنے کے بعد اس کا افتتاح ناقابل فہم ہے۔ کمپنی نے تقریباً 10 لاکھ ٹن فرٹیلائزر تیار کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ منوگوڑ میں شکست سے عوام کی توجہ ہٹانے کیلئے مرکزی حکومت نے وزیر اعظم کے دورہ کا منصوبہ بنایا جہاں نریندر مودی جلسہ عام سے خطاب کریں گے۔ وزیر اعظم کی آمد کے موقع پر چیف منسٹر کی موجودگی کے بارے میں مختلف قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں۔ سابق میں چیف منسٹر نے وزیر اعظم کے استقبال کیلئے ریاستی وزیر کو اپنے نمائندہ کے طور پر روانہ کیا تھا۔ر