وزیراعظم سربیا نے عوامی احتجاج کے بعد استعفیٰ دے دیا

   

بلغراد: سربیا کے وزیر اعظم میلوس وسووک نے ریلوے اسٹیشن کی چھتری کے گرنے پر ملک گیر احتجاج کے بعد استعفیٰ دے دیا ہے ۔یہ اطلاع میڈیا رپورٹس میں دی گئی ہے ۔ وسووک نے کہا کہ انہوں نے یہ قدم چیزوں کو مزید پیچیدہ بنانے سے بچنے اور معاشرے میں تناؤ کو نہ بڑھانے کیلئے اٹھایا۔ قابل ذکر ہے کہ گزشتہ سال نومبر میں نووی سیڈ شہر میں ریلوے اسٹیشن کی چھتری گرنے سے 15 افراد ہلاک ہوگئے تھے ۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق اس کے بعد سے ہزاروں لوگ باقاعدگی سے سڑکوں پر تھے ۔ مظاہرین اس واقعے کے احتساب اور کرپشن کے خلاف مظاہرہ کر رہے ہیں۔ صدر الیگزینڈر ووسک نے منگل کو دیر گئے ایک ٹی وی خطاب میں کہا کہ وہ اگلے 10 دنوں کے اندر فیصلہ کریں گے کہ پارلیمانی انتخابات کرائے جائیں یا نئی حکومت بنائی جائے ۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق نووی سیڈ واقعے کے سلسلے میں ایک درجن سے زائد افراد پر فرد جرم عائد کی گئی ہے ۔ جن میں سابق وزیر ٹرانسپورٹ گورن ویسک بھی شامل ہیں۔ جنہوں نے واقعے کے چند روز بعد استعفیٰ دے دیا تھا۔ صدر کے قابل اعتماد اتحادی وسووکی نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ وزیر اعظم کے عہدے سے مستعفی ہونے کا ان کا فیصلہ مظاہرین کے “جذبات کو پرسکون کرنے اور بات چیت کی طرف لوٹنے ” کی ترغیب دے گا۔ لیکن اگر قومی اسمبلی سے استعفیٰ کی تصدیق ہونے کے 30 دنوں کے اندر نئے وزیر اعظم کی تقرری نہ کی گئی تو اس سے پارلیمانی انتخابات کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے ۔ حزب اختلاف کی جماعتیں ایک عبوری حکومت کا مطالبہ کر رہی ہیں جو ان کے بقول آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کیلئے حالات پیدا کر سکتی ہے ۔ لیکن وسووک نے ان مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سربیائی لوگ اقتدار میں عام لوگوں کو دیکھنا چاہتے ہیں، ایسے سیاستدانوں کو نہیں جن پر بھروسہ نہیں ہے ۔