مستقل قیام امن کیلئے ہندوستان کے پاس حکمت عملی اور مؤثر قیادت کا فقدان
منموہن سنگھ اور واجپائی میں بہت خوبیاں تھیں l ورلڈ اکنامک فورم کے سالانہ اجلاس سے خطاب
ڈاؤس : پاکستان کا کہنا ہے کہ ہندوستان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ امن کیلئے اس میں حکمت عملی اور قیادت دونوں کا فقدان ہے۔ پاکستانی وزیر حنا ربانی کھر کے مطابق مودی کی حکومت میں ہندوستان کا سیکولر تانا بانا بھی تار تار ہو چکا ہے۔پاکستان کی وزیر مملکت برائے امور خارجہ حنا ربانی کھر کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان امن کے قیام کیلئے کام کرنے میں اسلام آباد کو ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی میں کوئی ”ساتھی” نظر نہیں آتا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ مودی کے پیشرو منموہن سنگھ اور اٹل بہاری واجپائی میں یہ خوبی نظر آئی تھی۔ داؤوس میں 19 جنوری جمعرات کے روز ورلڈ اکنامک فورم کے سالانہ اجلاس کے موقع پر جنوبی ایشیا کے موضوع پر ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے حنا ربانی نے کہا، ”وزیر خارجہ کے طور پر جب میں نے ہندوستان کا دورہ کیا، تو میں نے بہتر تعاون کیلئے بہت محنت کی تھی۔ اور 2023 کی صورتحال کے مقابلے میں ہم اس وقت بہت بہتر پوزیشن میں تھے۔”ان کا مزید کہنا تھا، ”ہم نے ان برسوں میں جو کچھ بھی کیا، اس نے دشمنی میں اضافہ کیا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ ہم جغرافیہ تبدیل نہیں کر سکتے۔ اور آئیے یہ بھی سمجھیں کہ یہ جنوبی ایشیا کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ ہندوستان اور پاکستان کا مسئلہ ہے اور مسئلہ بھی ہندوستان کی جانب سے ہے، جس میں قیادت اور مدبرانہ صلاحیت کا فقدان ہے۔ حنا ربانی کھر کا کہنا تھا، ”میں سچ میں یہ بات مانتی ہوں کہ اگر دونوں ممالک کو ایک ہی وقت میں بہتر سیاستدان مل جائیں اور یہ رہنما صرف انتخابات جیتنے میں ہی دلچسپی نہ رکھتے ہوں تو کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے جسے حل نہ کیا جا سکے۔”حنا ربانی کھر نے وزیر اعظم مودی کی ہندو قوم پرستی کی سیاست کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا انتخابی مفادات سے ہٹ کر، ”امن کیلئے سوچنے کی ضرورت ہے۔ ’’انہوں نے کہا، مجھے وزیر اعظم نریندر مودی میں ایسا خوبی نظر نہیں آ رہی ہے، ہو سکتا ہے وہ اپنے ملک کیلئے اچھے ہو سکتے ہوں، تاہم میں نے منموہن سنگھ اور اٹل بہاری واجپائی جیسے رہنماؤں میں یہ خوبی دیکھی تھی‘‘۔ حنا ربانی کا یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب چند روز قبل ہی پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے کشمیر سمیت تمام دیرینہ مسائل کے حل کیلئے اپنے ہندوستانی ہم منصب کے ساتھ ’’سنجیدہ‘‘ اور ’’مخلصانہ‘‘ بات چیت کے خواہش ظاہر کی تھی۔حنا ربانی کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ماضی سے سبق سیکھا ہے اور وہ آگے بڑھنا چاہتا ہے لیکن انہیں محسوس ہوتا کہ ہندوستان اب وہ ملک نہیں رہا جہاں پہلے تمام مذاہب کے لوگ ایک ساتھ رہا کرتے تھے۔ ’’اب ایسا نہیں رہا‘‘۔پاکستانی وزارت خارجہ کی وزیر مملکت کے اس بیان پر ہندوستانی حکومت کی جانب سے ابھی تک باقاعدہ کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے، تاہم داؤوس کے اس پینل میں ہندوستان کے ایک معروف ہندو مذہبی رہنما (آرٹ آف لیونگ کے سربراہ) شری روی شنکر بھی موجود تھے، جنہوں نے مودی کی حمایت کی۔شری روی شنکر کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اس حقیقت کا ادراک ہونا چاہیے کہ مسئلہ اس کے ساتھ ہے کیونکہ ہندوستان کی کسی دوسرے پڑوسی ملک کے ساتھ ایسی کوئی پریشانی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم مودی نے کئی بار اپنا ہاتھ بڑھایا ہے اور بار بار مدد کی پیشکش کی تاہم پاکستان کے اس وقت کے وزیر اعظم نے اس پر کوئی توجہ نہیں دی اور نظر انداز کر دیا۔
قبل ازیں پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کے بیان پر ہندوستانی وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باغچی نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہاتھا کہ ہندوستان ہمیشہ سے پاکستان کے ساتھ معمول کے ہمسایہ تعلقات چاہتا ہے۔ لیکن معمول کے تعلقات کیلئے سازگار ماحول ہونا چاہیے۔ اور سازگار ماحول سے مراد ہے کہ دہشت گردی، دشمنی یا تشدد نہ ہو۔