وقف اراضی کے خاموش سودے کے انکشاف سے حکومت میں ہلچل

   

جامعہ نظامیہ وقف
وقف بورڈ ، جامعہ نظامیہ دستاویزات اکٹھا کرنے میں مصروف، محکمہ جات سے 1990 کی دہائی سے جامعہ کی مراسلت

محمد مبشرالدین خرم

حیدرآباد۔23۔جون۔اللہ کے نام پر وقف کی گئی جائیدادوں کی حفاظت خود اللہ تعالیٰ کرتے ہیں اور ’’جامعہ نظامیہ ‘‘ جیسی عظیم دینی درسگاہ کی جائیداد کو تباہ کرنے والوں کے مقدر میں تباہی ہوگی ۔حکومت تلنگانہ نے تلنگانہ انڈسٹریل ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے ذریعہ جامعہ نظامیہ کی اس موقفہ جائیداد کو ہراج کیا ہے جس کا وقف نامہ موجود ہے اور اس جائیداد پر اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے ساتھ ریاستی حکومت کے تنازعہ نے اس جائیداد کی حقیقت کو آشکار کر دیا ہے۔ تلنگانہ وقف بورڈ کے پاس اس جائیداد سے متعلق تمام دستاویزات کی موجودگی کے باوجود اختیار کردہ خاموشی اب زیادہ دیر تک نہیں رہ پائے گی کیونکہ ’’روزنامہ سیاست ‘‘ نے اس جائیداد کا منتخب شائع کیا ہے اور آج ’’وقف نامہ ‘‘ کی اشاعت کے ذریعہ وہ تمام حقائق منظر عام پر لائے جارہے ہیں جو اس جائیداد کے واقف نے ’وقف نامہ ‘ میں درج کئے ہیں۔محکمہ اسٹامپس اینڈ رجسٹریشن کے علاوہ دیگر متعلقہ محکمہ جات میں موجود دستاویزات کے مطابق غازی یار جنگ بہادر ‘ غازی الدین احمد ساکن سلطان پورہ نے جو ہاتھ سے تحریر کردہ وقف نامہ جمع کروایا تھا اس میں اس بات کی صراحت کی تھی کہ شمس العلماء نواب عزیز جنگ بہادر کی وصیت کے مطابق وہ یہ وقف نامہ تیار کر رہے ہیں جو کہ جملہ اراضی 510 ایکڑ 35گنٹہ سے متعلق ہے۔’’جامعہ نظامیہ ‘‘ کے لئے وقف اس جائیداد کا وقف نامہ جو کہ اردو میں تحریر کیا گیا تھا اسے رجسٹرار ضلع اطراف بلدہ میں رجسٹرڈ کروایا گیا ہے ۔ اس موقوفہ جائیداد کے سلسلہ میں سال 2010 سے قبل ہونے والی ہنگامہ آرائیوں کے بعد اسے درج’کتاب الاوقاف ‘ کیا گیا تھا اور اس جائیداد کو قانونی پیچیدگیوں کا منظم انداز میں شکار بناتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ مذکورہ جائیداد سے متعلق مقدمہ میں سپریم کورٹ میں شکست ہوچکی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ جائیداد کا مکمل ریکارڈ تلنگانہ وقف بورڈ کے پاس موجود ہے اور اس جائیداد کے لئے تلنگانہ وقف ٹریبونل میں دائر کئے گئے ایک مقدمہ کو مسترد کئے جانے کے بعد جامعہ نظامیہ کے ذمہ داروں نے تلنگانہ ہائی کورٹ میں CRP دائر کرتے ہوئے ٹریبونل کے احکام کے خلاف درخواست دائر کی گئی تھی۔ تلنگانہ ہائی کورٹ میں دائر کی گئی یہ درخواست اب بھی زیر دوراں ہے لیکن اس پورے معاملہ کو حکومت نے نظرانداز کرتے ہوئے اس جائیداد کے حصہ کو ہراج کیا جو کہ 237 کروڑ روپئے فی ایکڑ فروخت ہوا ۔ حکومت کی نگرانی میں کئے گئے اس ہراج کو فوری طور پر کالعدم قرار دینے کے لئے قانونی کاروائی کرنا تلنگانہ وقف بورڈ کی ذمہ داری ہے اور جائیداد کی تولیت رکھنے والی جامعہ نظامیہ انتظامی کمیٹی کی معاونت سے فوری طور پر قانونی چارہ جوئی کا آغاز کیا جانا چاہئے ۔ تلنگانہ انڈسٹریل انفراسٹرکچر کارپوریشن نے 6مئی کو جب سروے نمبر 83/1 میں موجود موقوفہ اراضی کے ہراج کے سلسلہ میں اعلامیہ جاری کیا تو اسی وقت ’جامعہ نظامیہ ‘ نے حرکت میں آتے ہوئے فوری شہر حیدرآباد کے سرکردہ اخبارات میں Public Notice جاری کرواتے ہوئے جائیداد سے متعلق ملکیت کا مقدمہ تلنگانہ ہائی کورٹ میں زیر التواء ہونے کی اطلاع شائع کروائی تھی لیکن اس ’عوامی انتباہ ‘ کو بھی نظر انداز کرتے ہوئے موقوفہ جائیداد کے ’’ہراج‘‘ کو یقینی بنایا گیا تھا لیکن جائیداد کے ہراج اور اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے درمیان شروع ہونے والے تنازعہ کے دوران موقوفہ جائیداد سے متعلق دستاویزات منظر عام پر آنے لگے ہیں ۔وقف نامہ میں درج تفصیلات کے مطابق یہ وقف نامہ سب رجسٹرار ضلع اطراف بلدہ جناب محمد اختر کی موجودگی میں 13 اردی بہشت 1358 فصلی کو درج رجسٹر کیاگیا تھا جس کی تفصیلات خود حکومت آندھراپردیش کے محکمہ رجسٹریشن اینڈ اسٹامپس کے ذریعہ جامعہ نظامیہ کو روانہ کی تھیں ۔ جامعہ نظامیہ کے ذمہ داروں اور محکمہ اسٹامپس اینڈ رجسٹریشن کے درمیان 1993 اور 1997 کے درمیان ہونے والی مراسلت اور 2010 میں ہونے والی مراسلت میں بھی اس بات کی توثیق ہوتی ہے کہ سروے نمبر 83 میں موجود جائیدادوقف ہے اور اس سلسلہ میں بعض مقدمات کے بھی حوالہ دیئے گئے ہیں ۔ تلنگانہ ہائی کورٹ میں فی الحال جامعہ نظامیہ کا مقدمہ CRP-3206/2023 اب بھی زیر دوراںہے جو کہ وقف ٹریبونل کے مقدمہ نمبر OS-196/2016 کے خلاف دائر کیاگیا تھا جسے تلنگانہ ہائی کورٹ نے قبول کرلیا ہے ۔’رائے درگ ‘ وقف اراضی کے متعلقہ سروے نمبرات میں موجود مکمل جائیداد پر موجود قبضہ جات کی تمام تر تفصیلات فوری اکٹھا کرنے کے اقدامات کئے جانے چاہئے اور توقع ہے کہ ریاستی وزیر اقلیتی بہبود جناب محمد اظہر الدین اور محکمہ اقلیتی بہبود و تلنگانہ وقف بورڈ کی جانب سے ’جامعہ نظامیہ ‘ کے تحت موقوفہ اس جائیداد کے تحفظ کے ذریعہ اسے حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی اور اس سلسلہ میں جامعہ نظامیہ کے ذمہ داروں کی قانونی معاونت کے ساتھ ساتھ سرکاری طور پر بھی محکمہ جات سے نمائندگی کرتے ہوئے اس موقوفہ جائیداد کو واپس حاصل کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے۔3/k