وقف ایکٹ مسلمانوں کی شناخت اور معیشت کیلئے تباہ کن

   

محمد عبدالعزیز ، صدر ایم پی جے تلنگانہ کا صحافتی بیان
حیدرآباد /8 جون ( پریس نوٹ ) صدر موومنٹ فار پیس اینڈ جسٹس ، محمد عبدالعزیز نے ملک میں ترمیم شدہ مسلم وقف ایکٹ کے نفاذ کے خلاف ایک صحافتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ایم پی جے ( تلنگانہ ) اس ترمیم شدہ قانون کے نفاذ کے خلاف اس وقت تک احتجاج کرتی رہے گی جب تک کہ حکومت اسے واپس لینے کا باضابطہ اعلان نہ کردے ۔ انہوں نے یقین کے ساتھ کہا کہ یہ قانون محض مسلمانوں کی وقف شدہ لاکھوں ایکڑ زمینات اور بیش قیمت عمارتوں پر غیر قانونی طور پر ناجائز قبضہ کرنے کا ناپاک منصوبہ تیار کیا ہے ۔ جس کی حقیقت سے بلالحاظ مذہب و ملت بھارت کے عوام اچھی طرح واقف ہوچکے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ ترمیم شدہ قانون حکومت کے ناپاک ارادوں کا خوب اچھی طرح اظہار کرتا ہے ۔ انہوں نے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ قانون محض فرقہ پرست کٹر ،ہندوتو طاقتوں کی مرضی و منشاء کے عین مطابق ترتیب دیا گیا ہے جو آئندہ انتخابات میں ہندو ووٹوں کو بٹورنے اور پھر ایک بار اپنی حکومت تشکیل دینے کے منصوبے کو کامیاب بنانا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے مسلمان اور تمام سیکولر اور انصاف پسند ہندو برادری ، ان کی اس چال کو کامیاب ہونے نہیں دے گی ۔ انہوں نے کہا کہ اس قانون کے نفاذ کے بعد ملک بھرمیں جگہ جگہ مسلمانوں کی مسجدوں کو شہید کیا جائے گا ۔ دینی مدارس یکلخت بند کردئے جائیں گے اور مدارس کی عمارتوں پر بلڈوزر چلادئے جائیں گے ۔ مسلم قبرستانوں کو مسمار کرکے مسلم میتوں کو دفن کرنا ممنوع ہوجائے گا ۔ بلکہ مسلم میتوں کو جلانے کا قانون پاس کیا جائے گا ۔ ہزاروں عاشورخانوں ، درگاہوں اور آستانوں کو زمین دوڑ کرکے ان کی زمینات پر قبضہ کیا جائے گا ۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ اس تمام ڈرامہ بازی کا بنیادی مقصد بھارت کے مسلمانوں کی معیشت ، تعلیم اور ان کے مذہبی امور کو پوری طرح سے تباہ تاراج کردینا ہے ۔ جس کی ہم ہرگز اجازت نہیں دیں گے اور اس قانون کے خلاف ہم اس وقت تک جدوجہد جاری رکھیں گے جب تک حکومت پارلیمنٹ میں اس قانون کو واپس لینے کا اعلان نہ کردے ۔