وقف بورڈ کے 2892 مقدمات کی پیروی کیلئے صرف 5 وکلاء دستیاب

   

ہائیکورٹ میں 1431 مقدمات کی پیروی صرف 2و کلاء کے ذمہ، قابضین اور عہدیداروں میں ملی بھگت، ریکارڈ کی کمی کے باعث جائیدادوں سے محرومی

حیدرآباد۔9۔ جون (سیاست نیوز) تلنگانہ میں اوقافی جائیدادوں کے تحفظ پر حکومت اور عہدیدار بلند بانگ دعوے کرتے ہیں لیکن عدالتوں میں زیر دوران مقدمات کا جائزہ لیں تو اندازہ ہوگا کہ حکومت کو وقف جائیدادوں اور اراضیات کے تحفظ میں کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔ تلنگانہ میں 2892 وقف جائیدادوں سے متعلق مقدمات سپریم کورٹ سے تحت کی عدالتوں تک زیر دوران ہیں لیکن ان کی مؤثر پیروی کیلئے وقف بورڈ کے پاس قابل وکلاء کی کمی ہے ۔ بتایا جاتا ہیکہ عدالتوں میں مقدمات کی تعداد میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے ۔ وقف اراضیات کے قابضین کسی عدالت سے بآسانی حکم التواء حاصل کرکے برسہا برس مقدمات کو طول دینے میں مہارت رکھتے ہیں۔ بعض اہم جائیدادوں کے مقدمات میں قابضین اور وقف بورڈ کے عہدیداروں کی ملی بھگت دیکھی گئی جس کے نتیجہ میں بورڈ کو جائیدادوں سے محروم ہونا پڑا۔ وقف بورڈ میں جائیدادوں کے ریکارڈ میں الٹ پھیر اور اسے غائب کرنے کے کئی معاملات منظر عام پر آئے ۔ حکام اور ماتحت عملہ کے تعاون سے قابضین نے کئی اہم جائیدادوں کی مکمل فائل حاصل کرلی اور وقف بورڈ میں کوئی ریکارڈ نہیں۔ حکومت نے ریکارڈ روم کو مہربند کردیا ، باوجود اس کے دعوے کے ساتھ کہا نہیں جاسکتا کہ تمام جائیدادوں کا ریکارڈ موجود ہے۔ سپریم کورٹ میں 12 ، ہائی کورٹ 1431 ، وقف ٹریبونل 1016 اور اضلاع کی عدالتوں میں 114 مقدمات زیر دوران ہیں جن میں اراضیات کے علاوہ متولیوں اور کمیٹیوں سے متعلق امور شامل ہیں۔ مطلقہ خواتین کو گزارے سے متعلق 319 مقدمات زیر دوران ہیں۔ ذرائع کے مطابق مقدمات کی پیروی کیلئے اسٹانڈنگ کونسل کے انتخاب میں سیاسی مداخلت کے باعث بورڈ کو مقدمات میں شکست کا سامنا ۔ سپریم کورٹ کیلئے وقف بورڈ میں کوئی علحدہ وکیل نہیں ہے جبکہ ہائیکورٹ میں صرف دو اسٹانڈنگ کونسل ہیں۔ پہلے اسٹانڈنگ کونسل کو حیدرآباد و رنگا ریڈی کے مقدمات کی ذمہ داری ہے جبکہ دوسرا اسٹانڈنگ کونسل ریاست کے باقی تمام اضلاع کے مقدمات کی پیروی کرتا ہے۔ 1431 زیر التواء مقدمات کیلئے صرف دو اسٹانڈنگ کونسل ناکافی ہیں۔ حال ہی میں بعض قابل وکلاء کو اسٹانڈنگ کونسل کی ذمہ داریوں سے محض اس لئے سبکدوش کردیا گیا کیونکہ انہوں نے سنجیدگی سے پیروی کی اور عہدیداروں کی ہدایات کو قبول کرنے سے انکار کیا۔ مسلمانوں میں قابل و اہل وکلاء کی کمی نہیں ہے لیکن بورڈ کو ان کی مرضی کے مطابق کام کرنے والے وکیل چاہئیں ۔ ٹریبونل میں 1016 مقدمات کیلئے صرف 3 اسٹانڈنگ کونسل ہیں جبکہ ضلعی عدالتوں میں کوئی علحدہ وکیل وقف بورڈ سے مقرر نہیں کیا گیا۔ درگاہ حضرت حسین شاہ ولیؒ، درگاہ حضرت بابا شرف الدینؒ و عیدگاہ گٹلہ بیگم پیٹ کی اراضیات کے معاملہ میں بورڈ کو عدالتوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا اور قابضین کو برتری ملی ۔ بتایا جاتا ہے کہ وقف بورڈ میں ریکارڈ کی کمی مقدمات میں ناکامی کی وجہ ہے ۔ وقف بورڈ سے صرف گزٹ و سروے رپورٹ پیش کی جاتی ہے جبکہ قابضین ریونیو ریکارڈ سے اپنی ملکیت ثابت کرتے ہیں۔ عدالت میں وقف گزٹ نہیں بلکہ ریونیو ریکارڈ کو قبول کیا جاتا ہے ۔ جب تک ریونیو ریکارڈ میں وقف جائیدادوں کو شامل نہیں کیا جاتا ، اس وقت تک عدالتوں کے ذریعہ جائیدادوں اور اراضیات کو بچانا ممکن نہیں ہے ۔ تمام ضلع کلکٹرس کو وقف جائیدادوں کی تفصیل روانہ کرکے ریونیو ریکارڈ میں شامل کرنے ہدایت دی گئی ہے لیکن یہ کام کئی اضلاع میں شروع نہیں ہوا۔ ماہرین کے مطابق وقف بورڈ کو ہائیکورٹ میں تجربہ کار اور قابل وکلاء کی خدمات حاصل کرنی چاہئے جنہیں وقف جائیدادوں کے تحفظ میں سنجیدگی ہو۔ر