وقف بورڈ کے ریکارڈس غیر محفوظ تو نہیں؟

   


عرصہ دراز سے عہدیداروں کی ایک ہی مقام پر موجودگی سے وقف کے مفادات کو نقصان

حیدرآباد۔16۔اکٹوبر(سیاست نیوز) تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ میں سدھار لانے کے لئے بنیادی ڈھانچہ کو تبدیل کرنا ناگزیر ہے کیونکہ عرصہ دراز سے دفتری امور دیکھ رہے عہدیداروں کی ایک ہی مقام پرموجودگی وقف کے مفادات کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ وقف بورڈ سے فائیلس غائب ہوتی ہیں تو کس طرح غائب کی جاتی ہیں اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ کرایہ کے شعبہ میں موجود فائیل کے متعلق دریافت کرنے پر یہ کہتے ہوئے ٹال دیا جاتا ہے کہ فائل دستیاب نہیں ہے حالانکہ جن جائیدادوں کو کرایہ پر دیا گیا ہے اگر ان جائیدادوں کا ریکارڈ وقف بورڈ میں محفوظ نہ ہوتو ایسی صورت میں مستقبل میں وقف بورڈ اپنی جائیداد پر دعویٰ کرنے کے موقف میں ہی نہیں ہوگا۔تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کے عہدیداروں اور ملازمین کی لاپرواہی کے سبب وقف بورڈ سے جاری کئے جانے والے احکامات یا ہدایات سے متعلق فائل ہی وقف بورڈ میں موجود نہ ہونے کی ملازمین کی جانب سے اطلاع دی جا رہی ہے جو کہ یہ ثابت کرتا ہے کہ وقف بورڈ میں ریکارڈ یا جائیدادیں کس حد تک محفوظ ہیں!تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کے مختلف شعبہ جات میں عرصہ دراز سے ایک ہی مقام پر خدمات انجام دینے والے ملازمین کا اگر فوری طور پرکم از کم اندرون ادارہ تبادلہ نہیں کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں وقف بورڈ مکمل طور پر تباہ ہوجائے گا۔ جو لوگ عرصہ دراز سے وقف بورڈ کے مرکزی دفتر میں خدمات انجام دے رہے ہیں انہیں اضلاع میں انسپکٹر آڈیٹر کے طور پر تقرر کرتے ہوئے ان کی خدمات سے استفادہ کیا جاسکتا ہے کیونکہ ایک ہی شعبہ میں خدمات انجام دیتے ہوئے یہ ملازمین معاملتوں میں مصروف ہوچکے ہیں جو کہ وقف بورڈ کو موصول ہونے والی شکایات اور درخواستوں کی یکسوئی میں سب سے بڑی رکاوٹ بن رہے ہیں۔ وقف بورڈ کے شعبہ کرایہ میں موجود ملازمین جس انداز میں وقف بورڈ کو نقصان پہنچارہے ہیں اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی بلکہ ان ملازمین کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات ریاستی وقف بورڈ کی جائیدادوں کی تباہی کا سبب بن رہے ہیں۔ اوقافی جائیدادیں جن کے معمولی کرایہ تک ادا نہیں کئے جاتے ان جائیدادوں کو مقفل رکھتے ہوئے برسوں سے کرایہ ادا نہ کرنے والوں کے خلاف کاروائی کے بجائے ان قابضین کی شعبہ کرایہ میں خدمات انجام دینے والے اپنے طور پر مدد کر رہے ہیں اور ان کی جانب سے کی جانے والی اس مدد کو لیگل شعبہ میں موجود ملازمین و عہدیداروں کی مدد بھی حاصل ہے۔بورڈ کے مختلف شعبہ جات میں موجود ملازمین کے درمیان تال میل کے سبب برسوں سے کئی درخواست گذار وقف بورڈ کے چکر کاٹنے پر مجبور ہیں۔م