(قابضین نے تخلیہ کیلئے مسجدپر حملہ کردیا)
جگدیو پور کی وقف اراضی کا فیصلہ قابضین کے حق میں، ٹریبونل میں بورڈ کی عدم پیروی، ہائی کورٹ میں اپیل سے گریز
حیدرآباد۔10۔ جون (سیاست نیوز) تلنگانہ میں اوقافی جائیدادوں کی تباہی کیلئے وقف بورڈ کے عہدیدار اور اسٹانڈنگ کونسلس ذمہ دار ہیں۔ کئی اہم جائیدادوں کے مقدمات میں موثر پیروی نہ کرتے ہوئے قابضین کے حق میں فیصلوں کو یقینی بنایا گیا ۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کے انتخابی حلقہ گجویل کے جگدیو پور منڈل میں ایک تازہ معاملہ منظر عام پر آیا جس میں وقف بورڈ کی لاپرواہی کے نتیجہ میں وقف ٹریبونل میں فیصلہ قابضین کے حق میں ہوگیا اور ہائیکورٹ میں ابھی تک اپیل دائر نہیں کی گئی۔ جگدیو پور منڈل کے علی رضا پیٹ میں سروے نمبر 72/3 اور 88 کے تحت ایک ایکر 22 گنٹہ اراضی عاشور خانہ کے تحت موجود ہے جس کی تفصیلات گزٹ نمبر 46/A مورخہ 20 ڈسمبر 2001 ء کے صفحہ نمبر 79 اور سیریل نمبر 19349 کے تحت درج ہیں۔ اراضی پر عاشور خانہ کے علاوہ ایک مسجد موجود ہے۔ وقف بورڈ کی جانب سے 12 ڈسمبر 2018 ء کو سیکشن 54 کے تحت قابضین کو نوٹس جاری کی گئی جس میں انہیں غیر مجاز قابض قرار دیتے ہوئے اندرون 15 یوم دستاویزات کے ساتھ رجوع ہونے کی ہدایت دی گئی۔ قابضین نے جنہیں سیاسی سرپرستی حاصل ہونے کا دعویٰ ہے، وقف بورڈ سے رجوع ہونے کے بجائے وقف ٹریبونل سے رجوع ہوئے۔ ٹریبونل میں وقف بورڈ کی جانب سے موثر پیروی نہیں کی گئی اور وقف اراضی کے تحفظ کے لئے وقف بورڈ کے لیگل سیکشن نے اسٹانڈنگ کونسل کو ہدایات جاری نہیں کیں جس کے نتیجہ میں 24 مارچ 2022 ء کو ٹریبونل نے قابضین کے حق میں فیصلہ سنایا۔ فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ سروے نمبر 88 کے تحت موجود 31 گنٹہ اراضی کے معاملہ میں کوئی مداخلت نہ کی جائے۔ ٹریبونل سے فیصلہ ملنے کے بعد 23 مئی کو قابضین نے غیر سماجی عناصر کی مدد سے اراضی پر موجود مکانات پر حملہ کردیا ۔ حملہ آوروں نے نہ صرف مقامی افراد کو نشانہ بنایا بلکہ مسجد میں توڑ پھوڑ کرتے ہوئے بے حرمتی کی ۔ گاؤں والوں نے پولیس کو اطلاع دی اور اے سی پی رتبہ کے عہدیدار کی آمد کے باوجود پولیس کی موجود میں مقامی افراد اور مسجد پر حملہ کیا گیا ۔ بعد میں جگدیو پور پولیس اسٹیشن میں حملہ آوروں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ ضلع سدی پیٹ میں واقع اس وقف اراضی کے معاملہ میں قابضین اور لیگل سیکشن کے علاوہ اسٹانڈنگ کونسل کی ملی بھگت کے نتیجہ میں وقف بورڈ قیمتی اراضی سے محروم ہوچکا ہے۔ ٹریبونل کے فیصلہ کو آج تک ہائی کورٹ میں چیلنج نہیں کیا گیا جبکہ مقامی افراد نے تمام دستاویزات کے ساتھ وقف بورڈ عہدیداروں سے نمائندگی کی ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ بورڈ کے چیف اگزیکیٹیو آفیسر ، لیگل سیکشن اور ہائیکورٹ کے اسٹانڈنگ کونسل کو جائیدادوں کے تحفظ سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ مقدمات کی پیروی میں سست روی پیدا کرتے ہوئے سنجیدگی کے ساتھ مقدمات لڑنے والے اسٹانڈنگ کونسلس کو علحدہ کردیا گیا اور موجودہ اسٹانڈنگ کونسل صرف اور صرف معاملہ داری میں مصروف بتائے جاتے ہیں۔ قابضین سے بھاری مالی منفعت حاصل کرتے ہوئے عدالتوں میں مقدمات کو کمزور کیا جارہا ہے۔ جگدیو پور کے مقامی افراد نے چیف منسٹر کے سی آر سے مطالبہ کیا ہے کہ اوقافی جائیدادوں کی تباہی کے ذمہ دار عہدیداروں اور وکلاء کے خلاف کارروائی کریں اور دوسرے وکلاء کا تقرر کرتے ہوئے ٹریبونل کے فیصلہ پر ہائیکورٹ سے حکم التواء حاصل کیا جائے۔ ر