سالیسٹر جنرل تشار مہتا اور سینئر ایڈوکیٹ مرلی دھر کے درمیان تلخ بحث
سپریم کورٹ نے مرکز ی حکومت سے جواب طلب کیا
نئی دہلی ۔22؍ستمبر( ایجنسیز )سپریم کورٹ نے وندے ماترم کے تمام 6 بند کی گائیکی کو لازمی قرار دینے والے قانون کو چیلنج کرنے والی عرضی پر مرکزی حکومت سے جواب طلب کیا ہے۔ گلوکار ٹی ایم کرشنا نے یہ درخواست دائر کی ہے جبکہ سپریم کورٹ میں مرکزی حکومت کی جانب سے پیش ہوئے سالیسٹر جنرل نے کہا کہ قانون سازی نکسل وادیوں کے مطابق نہیں ہونی چاہیے۔سینئر ایڈوکیٹ ڈاکٹر ایس مرلی دھر نے سالیسٹر جنرل کے اس تبصرے پر سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یہ بات واپس لینی چاہیے۔ یہ کارروائی براہ راست نشر ہو رہی ہے اور یہ بیان غیر ضروری تھا۔ اس دوران سالیسٹر جنرل تشار مہتا اور سینئر ایڈوکیٹ مرلی دھر کے درمیان تلخ بحث ہوئی۔سپریم کورٹ کے جج جسٹس جے باگچی نے کہا کہ ہم نے اس پر توجہ نہیں دی ہے۔ اس کے بعد سالیسٹر جنرل نے کہا کہ میں نے جو کہا ہے اسے دوبارہ کہہ سکتا ہوں۔ میں نے جو کہا اس پر مجھے کوئی افسوس نہیں۔جسٹس جوائے مالیا باگچی نے مداخلت کرتے ہوئے آئینی اداروں کے کردار پر زور دیا اور کہا کہ آئین کے تحت ایسے شخص کو بھی مساوی حقوق حاصل ہیں، جس پر دہشت گرد ہونے کا الزام ہو۔واضح رہے کہ میگسسے ایوارڈ یافتہ اور کنڑ موسیقار ٹی ایم کرشنا نے قومی نغمہ وندے ماترم کو مکمل گانے کے ضابطے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اب جو بند شامل کیے گئے ہیں، وہ مذہبی نوعیت کے ہیں۔ قومی نغمے کی توہین پر سزا کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ قومی نغمہ کیا ہو، یہ طے کرنا عدالت کا کام نہیں ہے۔ جہاں تک سزا کی گنجائش کا تعلق ہے، ہم اس پر سماعت کریں گے۔ عدالت نے عرضی کی کاپی سالیسٹر جنرل تشار مہتا کو سونپتے ہوئے اپنا موقف پیش کرنے کو کہا ہے۔ اس معاملے میں اگلی سماعت 12 اکتوبر کو ہوگی۔یہاں یہ تذکرہ بیجا نہ ہوگا کہ وندے ماترم گانے کے مسئلہ پر حکومت اور اپوزیشن جماعتوں میں بھی زبردست بحث جاری ہے۔حکومت تمام 6بند گانے کو لازمی قرار دینے کی کوشش کر رہی ہے جس کی مخالفت کی جارہی ہے ۔