ووٹر لسٹ سے 2.50 لاکھ ووٹوں کا اخراج، سنسنی خیز انکشاف

   

فارم6 کی لاکھوں درخواستیں مسترد اور زیر التوا،تلنگانہ ووٹر لسٹ کی شفافیت پر تشویش

حیدرآباد، 3 نومبر ]سیاست نیوز[ ریاست تلنگانہ میں نئے ووٹرس کے اندراج کے عمل کے دوران ایک طرف جہاں نوجوانوں کی بڑی تعداد حق رائے دہی کے لیے آگے آ رہی ہے ، وہیں دوسری جانب درخواستوں کی بڑی تعداد میں مسترد اور زیر التوا ہونا تشویشناک بن گیا ہے۔ ووٹر لسٹوں کی خصوصی جامع نظرثانی مہم (SIR-2026) کے ایک حصے کے طور پر رواں سال یکم جنوری سے 2 نومبر تک ریاست بھر میں 10 لاکھ 92 ہزار 820 افراد نے نئے ووٹ کے اندراج کے لیے فارم-6 کے ذریعے درخواستیں جمع کروائیں۔ تاہم الیکشن حکام کی جانچ پڑتال کے دوران سامنے آنے والے اعداد و شمار نے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق موصولہ درخواستوں میں سے اب تک صرف 7 لاکھ 16 ہزار 436 درخواستوں کو ہی منظوری دی جا سکی ہے۔ جبکہ 2 لاکھ 55 ہزار 421 درخواستیں مختلف وجوہات کی بنا پر مسترد کر دی گئی ہیں اور ایک لاکھ 20 ہزار 963 درخواستیں اب بھی مختلف مراحل پر زیر التوا ہیں۔ اس صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ نیا ووٹ حاصل کرنے کے لیے درخواست دینے والے ہر دس امیدواروں میں سے تقریباً چار افراد کو ابھی تک حق رائے دہی حاصل نہیں ہو سکا ہے۔عوام اور متعلقہ حلقوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ الیکشن کمیشن اور متعلقہ حکام جانچ پڑتال کے اس عمل کو شفاف بنائیں اور زیر التوا درخواستوں کا فوری تصفیہ کریں۔ ساتھ ہی اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ فارم6 کے تحت درست معلومات فراہم کرنے والے کسی بھی اہل شہری یا نوجوان کو ووٹر لسٹ میں شامل ہونے سے محروم نہ رکھا جائے۔2