وٹامن ڈی کے فائدے ’ کمی کے نقصانات

   

وٹامن ڈی ہمیں چڑچڑے پن، تھکاوٹ،سر درد،کمر درد، جوڑوں کے درد،اعصابی کمزوری، بالوں کے گرنے اور زنانہ ومردانہ بانجھ پن سے بچانے میں معاون ہوتا ہے۔ایک صحت مند جسم کووٹامن ڈی کی یومیہ 600 سے لے کر 2000 یو آئی مقدار درکار ہوتی ہے۔
وٹامن ڈی کی کمی کے اثرات
جب جسم میں وٹامن ڈی کی کمی پیدا ہوتی ہے تو ہڈیاں کمزور ی کا شکار ہونے لگتی ہیں جس سے ہڈیوں کا بھربھراپن اور توڑ پھوڑ (فریکچرز) سامنے آتی ہے۔ شوگر ٹائپ ٹو ، سانس کے مسائل (دمہ) دانتوں کے مسائل ، جسمانی و اعصابی کمزوری، پیروں اور پاؤں کے تلووں میں درد، کمر درد، ذہنی تناؤ اور دباؤ، بد مزاجی، اداسی، اکتاہٹ، اکساہٹ، سر چکرانا، دل گھبرانا اور پسینہ زیادہ آنے جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ نمونیہ ، نزلہ ، الرجیز ، وبائی زکام ، نیند میں کمی اسہال اور قبض جیسے پریشان کن امراض کا سبب بھی وٹامن ڈی کی کمی بن سکتی ہے۔
وٹامن ڈی کے حصول کے قدرتی ذرائع
وٹامن ڈی ہماری جسمانی ضرورت ہونے کے ساتھ ساتھ کورونا وائرس کے خلاف بدن کی قوت مدافعت میں اضافے کا باعث بھی ہے۔ ہم اپنی خوراک میں درج ذیل غذائیں شامل کر کے نہ صرف وٹامن ڈی کی کمی سے بچ سکتے ہیں بلکہ خاطر خواہ حد تک کورونا جیسی مہلک اور خطرناک وبا کے اثرات سے بھی محفوظ رہ سکتے ہیں۔ وٹامن ڈی کا سب سے بڑا، آسان اور مفت ذریعہ دھوپ ہے۔رواں موسم دھوپ بڑی دلآویز اور من کو لبھاتی ہے۔ اگر ایک صحت مندانسان روزانہ دو سے تین گھنٹے دھوپ میں گزارنا شروع کردے تو وٹامن ڈی کی کمی کے مضر اثرات سے بچا رہے گا۔
اگر کسی کو وٹامن ڈی کی کمی کے باعث مختلف جسمانی مسائل کا سامنا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے پورے بدن پر دیسی گھی کا ہلکا مساج کر کے دھوپ میں دو سے تین گھنٹے گزارے۔ پہلے دن سے ہی وٹامن ڈی کی کمی کے اثرات کم ہوتے دکھائی دینے لگیں گے۔ روغن بادام، روغن زیتون اور سرسوں کے تیل سے بدن پر مالش کرکے دھوپ میں بیٹھنے سے بھی قدرتی طور پر وٹامن ڈی کا حصول ممکن ہوتا ہے۔