3 رکنی کمیٹی کی تشکیل ،25 جنوری تک رپورٹ کی پیشکشی کی ہدایت
حیدرآباد۔ 21 جنوری (سیاست نیوز) ویرا ناری چاکلی ایلماںویمنس یونیورسٹی ، کوٹھی میں تعلیم حاصل کرنے والی طالبات کو سرٹیفکیٹ کی اجرائی کے مسئلہ پر تنازعہ پیدا ہوگیا ہے۔ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے والوں کو سرٹیفکیٹ کس نام سے دیا جائے اس پر الجھن پیدا ہوگئی ہے۔ اس تناظر میں یونیورسٹی کے وائس چانسلر سوریہ دھننجئے کی درخواست پر ہائیر ایجوکیشن کونسل نے عہدیداروں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ اس کمیٹی میں ایم جی یو کے سابق وائس چانسلر گوپال ریڈی، عثمانیہ یونیورسٹی کے پروفیسر نگیش، ریٹائرڈ فینانس آفیسر پودّار شامل ہیں۔ ہائیر ایجوکیشن کونسل نے اس کمیٹی کو 25 جنوری تک اپنی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔ 2014ء میں کوٹھی ویمنس کالج کو ویمن یونیورسٹی کے طرز پر اَپ گریڈ کرتے ہوئے سابق کے سی آر حکومت نے جی او جاری کیا تھا لیکن بل اسمبلی میں پیش نہیں کیا گیا۔ کانگریس حکومت نے حال ہی میں ’’ویرا ناری چاکلی ایلماں‘‘کے نام سے ویمن یونیورسٹی کو موسوم کرتے ہوئے اسمبلی میں بل پیش کیا اور بل کی منظوری کے بعد گورنر کی منظوری کیلئے راج بھون بھیجا گیا۔ بتایا یہ جارہا ہے کہ اب سے اس یونیورسٹی میں داخلہ لینے والوں کو ’’ویرا ناری چاکلی ایلماں‘‘کے نام سے سرٹیفکیٹ دیا جائے گا لیکن تعلیمی سال 2022-23ء ، 2023-24ء میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو کوٹھی ویمنس کالج یا تلنگانہ ویمن یونیورسٹی یا پھر ویرا ناری چاکلی ایلماں ویمن یونیورسٹی کے نام سے سرٹیفکیٹ جاری کرنا ، اس پر الجھن پائی جاتی ہے ، اس پر حکومت کی جانب سے ایک کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے اس کا حل دریافت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ سہ رکنی کمیٹی جو بھی رپورٹ پیش کرے گی ، اس پر عمل کیا جائے گا۔ 2