ْٓجماعت اسلامی جموں و کشمیر پر پانچ سالہ پابندی کی توثیق

   

دہلی ہائیکورٹ جج کے زیرقیادت ٹریبونل کا فیصلہ، مرکز کی اقدام کی تائید
نئی دہلی 2 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) دہلی ہائی کورٹ کے ایک جج کے زیرقیادت ٹریبونل نے مرکز کی طرف سے جماعت اسلامی جموں و کشمیر پر عائد کردہ پانچ سالہ امتناع کی آج توثیق کردی۔ دہشت گرد اور علیحدگی پسند سرگرمیوں کو جماعت اسلامی جموں و کشمیر کی طرف سے مبینہ تائید و مدد پر مرکز نے اس تنظیم پر پابندی عائد کی تھی۔ جسٹس چندرشیکھر کی زیرقیادت ٹریبونل نے گواہوں کی طرف سے پیش کردہ متعدد ثبوتوں کی بنیاد پر اس تاثر کا اظہار کیاکہ ناقابل گریز نتیجہ یہی اخذ کیا جاسکتا ہے کہ جماعت اسلامی، اس کے عہدیدار اور ارکان مختلف غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث تھے۔ ٹریبونل نے اس تاثر کا اظہار کیاکہ ’مذکورہ بیانات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ درخواست گذار تنظیم کی سرگرمیاں واضح ہیں۔ اس کے عہدیدار اور ارکان تخریب کار و انتشار پسند نوعیت کی سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں۔ جس میں ہندوستان کی یکجہتی اور علاقائی خود مختاری کو خطرہ لاحق تھا۔ وہ ہندوستان اور چند دیگر ممالک میں اپنی دستور میں معلنہ اغراض و مقاصد سے ہٹ کر دیگر ہم خیال جماعتوں سے ساز باز کے ساتھ مختلف سرگرمیوں میں ملوث تھے‘۔ ٹریبونل نے مزید کہاکہ ’مرکزی حکومت کے پاس اس ضمن میں واضح ثبوت اور قابل اعتبار مواد موجود تھا جس کی بنیاد پر متعلقہ قوانین کی مناسب دفعات کے مطابق جموں و کشمیر جماعت اسلامی پر پابندی عائد کی گئی ہے‘‘۔ جموں و کشمیر پولیس کے انسپکٹر جنرل سوائم پرکاش پانی نے ٹریبونل میں داخل کردہ حلفنامہ میں کہا تھا کہ جموں و کشمیر کے انڈین یونین میں انضمام کے بعد جماعت اسلامی جموں و کشمیر نے اس انضمام پر سوال اُٹھایا تھا اور جماعت اسلامی پاکستان کی ہدایات و احکام پر تعمیل شروع کی تھی اور جموں و کشمیر میں تخریب کار تحریک کی حوصلہ افزائی کررہی تھی۔