ٹرمپ اور روبیو کیخلاف جنگی جرائم کے شواہد موجود

,

   

امریکی شہریوں کا وفد 11نومبر کو عالمی فوجداری عدالت میں پیش کرے گا

دی ہیگ :8 نومبر ( یو این آئی ) امریکی شہریوں کا ایک وفد امریکی صدر ٹرمپ اور وزیر خارجہ مارکو روبیو کے خلاف فلسطینیوں پر ہولناک مظالم میں سہولت کاری کے الزامات کے شواہد لے کر عالمی فوجداری عدالت پہنچے گا۔امریکی میڈیا کے مطابق امریکی ٹیکس دہندگان پر مشتمل وفد 11 نومبر کو نیدرلینڈز کے شہر دی ہیگ پہنچے گا، جہاں ٹرمپ، روبیو اور دیگر امریکی حکام کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا جائے گا۔وفد کی جانب سے عالمی فوجداری عدالت میں درخواست دائر کر کے ٹرمپ اور مارکو روبیو کے گرفتاری کے وارنٹ جاری کرنے کی استدعا کی جائے گی۔درخواست کے ساتھ غزہ میں خدمات انجام دینے والے ڈاکٹروں کے حلفیہ بیانات، عینی شاہدین کی گواہیاں، ویڈیوز اور دیگر شواہد بھی جمع کرائے جائیں گے۔ اقوام متحدہ کی فلسطین کے لیے خصوصی نمائندہ فرانسسکا البانیز کی بھی دی ہیگ میں شرکت متوقع ہے۔ فریڈم فلوٹیلا کولیشن کی شریک بانی حویدہ عراف، فلسطینی نڑاد امریکی ناول نگار ابوالہوا اور دیگر اہم شخصیات بھی وفد میں شامل ہوسکتی ہیں۔11 نومبر کو دی ہیگ میں امریکی حکام کے خلاف قانونی کارروائی کے مطالبات پر پریس کانفرنس بھی منعقد کی جائے گی۔دوسری جانب فلسطینی صدارتی دفتر نے کہا ہے کہ غزہ کی موجودہ صورتحال اسرائیلی جارحیت اور مسلسل محاصرے کے باعث پیدا ہوئی ہے۔فلسطینی صدر محمود عباس کے مطابق اسرائیل نے سلامتی کونسل کی قرارداد اور غزہ میں جنگ بندی سے متعلق امریکی صدر ٹرمپ کے منصوبے پر عمل درآمد نہیں کیا۔انہوں نے کہا ہے کہ امن بورڈ اور اس کے سربراہ نکولائی ملاڈینوف بھی اسرائیلی مظالم رکوانے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ایران کے ساتھ جنگ کے بعد امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ پر مختلف ممالک کی جانب سے جنگی جرائم کے الزامات عائد کئے جاتے رہے ہیں ۔ امریکہ نے اسرائیل کیساتھ مل کر غزہ میں بڑی تباہی مچائی تھی ۔