حیدرآباد۔24۔جون(سیاست نیوز) ٹمریز جونیئر کالج میں بن بیاہی طالبہ نے بچے کو جنم دینے کے بعد اس کا قتل کردیا۔تلنگانہ اقلیتی اقامتی جونیئر کالج (گولکنڈہ) میں پیش آئے اس اندوہناک واقعہ کے بعد عوام میں تشویش پائی جانے لگی ہے ۔ تفصیلات کے مطابق ٹمریز جونیئر کالج میں تعلیم حاصل کررہی طالبہ نے دو یوم قبل کالج کے بیت الخلاء میں لڑکے کو جنم دیا اور اس کے بعد کالج کی کھڑکی سے نوزائیدہ کو باہر پھینک دیا۔ کالج کے احاطہ میں ہوئے اس واقعہ کا کسی بھی اہلکار یا ذمہ دار کو اس وقت اس بات کا علم ہوا جب تک دوسرے دن نوزائیدہ کی نعش دستیاب ہوئی۔ بتایا جاتاہے کہ تلنگانہ اقلیتی اقامتی جونیئر کالجس و اسکول انتظامیہ نے واقعہ کا سخت نوٹ لیتے ہوئے کالج کی پرنسپل اور زچگی کے وقت کالج کے نگران کے طور پر موجود وارڈن کو معطل کردیا۔ شہر حیدرآباد کی گنجان آبادی والے علاقہ گولکنڈہ میں موجود ٹمریز جونیئر کالج میں پیش آئے اس واقعہ نے علاقہ کے عوام کے رونگٹے کھڑے کردیئے ہیں لیکن اقامتی کالجس کے انتظامیہ نے معاملہ کو رفع دفع کرنے کی حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے طالبہ کو اس کے والدین کے پاس روانہ کردیا ہے جبکہ متعلقہ پولیس اسٹیشن نے اس سلسلہ میں ایک مقدمہ درج کرلیا ہے۔ بتایاجاتاہے کہ پولیس عہدیدار وں نے محض طالبہ پر نوزائیدہ کے قتل کا مقدمہ درج کیا ہے لیکن ٹمریز کے ذمہ داروں کے خلاف کسی بھی طرح کی کوئی کاروائی یا مقدمہ کا اندراج نہیں کیاگیا ہے جبکہ زچگی اور قتل کا واقعہ کالج کے احاطہ میں پیش آیا ہے جہاں والدین اپنے بچوں کو انتظامیہ کی نگرانی میں داخلہ دلواتے ہوئے مطمئن رہتے ہیں۔ ٹمریز کے اسکولوں میں محکمہ صحت کے ذریعہ نرسس کا تقرر کیا گیا ہے اور ماہانہ طلبہ کے چیک اپ کرنے کے علاوہ ان کی صحت کے متعلق ڈاٹا تیار کرنے کا دعویٰ کیا جاتا ہے لیکن سال دوم میں تعلیم حاصل کرنے والی اس طالبہ نے جو کہ سال اول میں بھی ٹمریز جونیئر کالج کی طالبہ رہی اور اب کالج کا آغاز ہوئے دو ہفتہ بھی نہیں گذرے کہ اس طالبہ کی زچگی ہوئی اور اس نے اپنے ہی نوزائیدہ کا قتل کردیا۔ مختلف گوشوں سے اٹھائے جانے والے سوال میں اب یہ دریافت کیا جار ہاہے کہ آیا جونیئر کالج انتظامیہ خواہ وہ پرنسپل ہو یا اساتذہ ہوں یا پھر وارڈن ہو یا کوئی دیگر عملہ کے ذمہ دارہوں ‘ کیا ان لوگوں نے طالبہ کے حمل کے دوران اس کی جسمانی ساخت میں رونما ہونے والی تبدیلی کو نوٹ نہیں کیا حالانکہ طالبہ سال اول کے دوران بھی جونیئر کالج میں تعلیم حاصل کر رہی تھی اور اب انٹرمیڈیٹ سال دوم کی تعلیم جاری رکھے ہوئے تھی۔اس کے علاوہ طالبہ کی اقامتی کالج کے بیت الخلاء میں زچگی پر بھی کئی سوال اٹھائے جا رہے ہیں ۔گولکنڈہ پولیس اسٹیشن کے مطابق پولیس نے پرنسپل کی شکایت پر قتل کا مقدمہ نمبر 241/2026 درج کرتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے لیکن قاتل بن بیاہی ماں کو تاحال گرفتار نہیں کیاگیا۔3