ٹی آر ایس حکومت نے اقلیتوں سے کوئی وعدہ پورا نہیں کیا

   

۔۔ 12 فیصد تحفظات ندارد ، اقلیتی اداروں پر عدم تقررات ، آل انڈیا مسلم لیڈرس کانفرنس کے الزامات
حیدرآباد ۔ 22 ۔ فروری : ( پریس نوٹ ) : آل انڈیا مسلم لیڈرس کانفرنس کی جانب سے پریس میٹ کا انعقاد عمل میں آیا ۔ اس موقعہ پر خطاب کرتے ہوئے اے آئی ایم ایل سی کے امیر جناب سید شمشاد قادری نے حکومت تلنگانہ پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ 2014 سے 2022 تک ٹی آر ایس حکومت جو وعدے اقلیتوں سے کئے تھے اسے تکمیل کرنے میں ناکام رہی جس کی مثال 12 فیصد تحفظات ہیں اس کے علاوہ 5 سے 6 عدد اقلیتوں کو وزارت میں جگہ ، 12 سے 15 مسلم نمائندوں کو انتخابات میں نمائندگی ، 2 سے 3 مسلم نمائندوں کو پارلیمنٹ میں نمائندگی دینا اور سیاسی طور پر مسلمانوں کو دیگر اقوام کے برابر نمائندگی دینے پر عمل پر نہیں کیا گیا ۔ انہوں نے کہا اس کے علاوہ اقلیتی اداروں جیسے وقف بورڈ ، اردو اکیڈیمی ، مالیتی کارپوریشن ، اقلیتی کمیشن جیسے اداروں پر چیرمین اور دیگر عہدے داروں کی عدم موجودگی کی وجہ سے اقلیتوں کی فلاحی وہ بہبودگی مکمل ناقص ہو کر رہ گئی ہے ۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس سال کے سالانہ بجٹ میں مختص رقم کو سو فیصد جاری کیا جائے تاکہ مسلمانوں کے پسماندگی دور ہوسکے ۔ اس موقعہ پر امیر جنوب ہند مولانا سید شاہ خیر الدین صوفی نے حکومت تلنگانہ خاص کر چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ پر الزام لگایا کہ انہوں نے حکومت کے قیام سے پہلے مسلمانوں سے کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہے ۔ جس میں 12 فیصد تحفظات شامل ہے ۔ اس کے علاوہ اقلیتی اداروں پر نمائندگی اور ان پر نامزد کئے جانے والے عہدے بھی مخلوعہ ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وقف بورڈ کی کارکردگی اور اس کی کروڑہا روپئے کی اراضی پر حکومت خود قابض ہورہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر منی کنڈہ جاگیر کی اراضی کو فوری طور پر مسلمانوں کے حوالے کریں جس کا انہوں نے وعدہ کیا تھا ۔ انہوں نے کہا عدالت میں درخواست گزار کی مخالفت میں حکومت فریق بنی ہوئی ہے ۔ جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت مسلمانوں کے معاملہ میں غیر سنجیدہ ہے ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت کی جانب سے ریکارڈ روم کو مقفل کروادیا گیا تاکہ وقف بورڈ ضروری دستاویزات عدالت میں داخل نہ کرسکے ۔ مولانا خیر الدین صوفی نے کہا کہ اگر حکومت کا رویہ اس طرح کا رہے گا تو آئندہ انتخابات میں ٹی آر ایس حکومت کو تلنگانہ کے مسلمان اقتدار سے بیدخل کردیں گے ۔ انہوں نے اس بات کا بھی اشارہ کیا کہ اگر حکومت 2 یا 3 مہینے میں کوئی فیصلہ نہیں کرے گی تو پھر چندر شیکھر راؤ کے خلاف اور ان کے فیڈرل فرنٹ کے خلاف ملک گیر سطح پر تحریک چلائی جائے گی اور تلنگانہ میں ٹی آر ایس حکومت کو اقتدار سے بے دخل کیا جائے گا ۔ اس موقعہ پر ابرار حسین آزآد نائب امیر اے آئی ایم ایل سی نے کہا کہ اس کانفرنس کا مقصد مسلمانوں کے ساتھ مسلسل نا انصافی کو دیکھتے ہوئے حکومت سے اپنے دستوری حقوق اور سیاسی مقام کو حاصل کرنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دوران تحریک تلنگانہ مسلمانوں نے کے سی آر کو ہرطریقہ سے تعاون کیا اور انہیں اقتدار دلانے میں مدد کی ۔ اس کے برعکس چیف منسٹر نے اقلیتوں اور مسلمانوں کے ساتھ بے رواہ روی کا رویہ اختیار کرتے ہوئے خود کو بادشاہ تصور کررہے ہیں اور من مانی حکمرانی چلا رہے ہیں ۔ ابرار حسین نے کہا کہ اس کی مثال یہ ہے کہ چند اعلی کار سیاست داں اور چند چاپلوس عہدے داروں کو لے کر مسلمانوں کے حقوق کی حق تلفی کررہے ہیں ۔ اور مسلم اداروں کو کمزور کرنے میں ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے ۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ اقلیتوں کے بجٹ کو دوسرے محکمہ میں استعمال کیا جارہا ہے ۔ جب کہ اقلیتی محکموں میں کوئی رقم جاری نہیں کی جارہی ہے ۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر مخلوعہ عہدے پر نامزد افراد کا تقرر کریں ۔ اور بجٹ کی رقم جاری کریں تاکہ مزید مسلمانوں کی پسماندگی کو روکا جاسکے ۔ انہوں نے کہا کہ شادی مبارک اور اقامتی اسکول کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے مسلمانوں کو سیاسی معاشی ، سماجی طور پر مکمل کمزور کیا جارہا ہے ۔ اگر اس طرح یہ سلسلہ جاری رہا تو مسلمان نہ صرف حیدرآباد بلکہ تلنگانہ کے تمام اضلاع میں حکومت کے خلاف تحریک چلائیں گے ۔ جس کی وجہ سے ٹی آر ایس حکومت کا خاتمہ یقینی ہے ۔ اس موقعہ پر کانفرنس کے دیگر ذمہ داران جن میں محترمہ شیراز خاں ، محترمہ عالیہ سلمہ ، محمد واحد علی خاں ، اقبال احمد ، نشاط فاطمہ ، سید شمیم الحسنین ، میر خرم علی ، سید رضوان احمد ، ارجمند احمدی ، اسماء بیگم موجود تھے ۔۔