مرکز کے خلاف جنگ شروع :ہریش راؤ۔ مرکزی حکومت سرکاری ادارے فروخت کر رہی ہے ، دھان نہیں خرید رہی ہے : کے ٹی آر
حیدرآباد /12 نومبر ( سیاست نیوز ) ٹی آر ایس پارٹی نے ریاست میں کسانوں کی جانب سے کاشت کردہ دھان کی خریدی کیلئے مرکزی حکومت پر دباؤ بنانے ریاست بھر میں احتجاجی دھرنے منظم کئے ۔ ضلعہیڈ کوارٹرس پر منعقدہ دھرنوں کی ارکان اسمبلی نے قیادت کی ۔ ٹی آر ایس قائدین کی جانب سے بیل بنڈیوں ٹریکٹرس اور موٹر سائیکلوں پر ریالیاں منظم کی گئی ۔ ریاستی وزیر اور ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر نے کہا کہ علحدہ تلنگانہ ریاست حاصل کرنے کیلئے مرکزی حکومت کی گردن مروڑی گئی ۔ دھان کی خریدی کیلئے بی جے پی کی گردن مروڑی جائے گی ۔ ریاستی وزیر فینانس و صحت ٹی ہریش راؤ نے کہا کہ بی جے پی حکومت کے خلاف جنگ کا آغاز ہوگیا ہے ۔ مرکزی حکومت سے دھان خریدنے سے انکار کرنے پر چیف منسٹر کے سی آر نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے آج احتجاجی دھرنے منظم کرنے کی پارٹی کیڈر کو ہدایت دی تھی ۔ جس پر ٹی آر ایس قائدین کی جانب سے بڑے پیمانے پر احتجاجی دھرنے منظم کئے گئے ۔ سرسلہ میں منعقدہ احتجاجی دھرنے میں حصہ لیتے ہوئے کے ٹی آر نے مرکزی حکومت کی دوہری پالیسی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دھان کی خریدی کے معاملے میں ریاست تلنگانہ سے ناانصافی کی جارہی ہے ۔ پنجاب سے مکمل دھان خریدا جارہا ہے اور تلنگانہ سے دھان خریدنے کے معاملے میں تحدیدات عائد کی جارہی ہے ۔ اس کی بی جے پی کو قیمت چکانی پڑے گی ۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کی حکومت جئے کسان کا نعرہ دے رہی ہے ۔ جبکہ مرکزی حکومت مخالف کسان پالیسیوں پر عمل کر رہی ہے ۔ تلنگانہ تحریک کی طرز پر کسانوں کو تحریک چلانے کا کے ٹی ار نے مشورہ دیا ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ مرکز کے انکار پر وہ دہلی جاکر بھی احتجاج کریں گے ۔سدی پیٹ میں منعقدہ احتجاجی دھرنے میں ریاستی وزیر فینانس ٹی ہریش راؤ نے کہا کہ ٹی آر ایس کا احتجاج مرکز میں زیر اقتدار بی جے پی حکومت کے خلاف جنگ کا آغاز ہے ۔ ابھی پیکچر باقی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کو سرمایہ کاری فراہم کرنے والی تلنگانہ ملک کی واحد ریاست ہے ۔ میڑچل میں منعقدہ احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے وزیر لیبر ملاریڈی نے تلنگانہ بی جے پی صدر کو منٹل سنجے قرار دیا ۔ شہر حیدرآباد کے دھرنا چوک اندرا پارک پر منعقدہ احتجاجی دھرنے میں ریاستی وزیر داخلہ محمد محمود علی ، ریاستی وزیر سنیماٹوگرافی سرینواس یادو کے علاوہ دوسروں نے حصہ لیا۔سرینواس یادو نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ کسانوں کو رُلانے والی کوئی بھی حکومت زیادہ دنوں تک قائم نہیں رہ سکتی ۔ انہوں نے بتایا کہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد چیف منسٹر چندرا شیکھر راؤ نے شعبہ زراعت کیلئے مختلف اقدامات کئے اور کسانوں کے ساتھ شعبہ زراعت کو نفع بخش بنایا ۔ انہوں نے بتایا کہ آبپاشی پراجکٹس کی تعمیر ، کھاد اور بیجوں کی بروقت فراہمی کے ذریعہ ریاست میں کاشت کاری کے رقبہ میں اضافہ کیا گیا اور زیادہ فصلیں حاصل کی گئی ۔ریاست تلنگانہ ملک میں چاول فراہم کرنے والی اناپورنا کی طرح اُبھری ہے ۔ انہوں نے مرکز سے مطالبہ کیا کہ وہ کسانوں کی حوصلہ افزاء کریں۔ ن