ٹی آر ایس کو قومی پارٹی میں تبدیل کرنے کے مسئلہ پر قائدین کی متضاد رائے

   

قومی سطح پر توسیع چیلنج سے کم نہیں، سابق میں کئی جماعتوں کے تجربات ناکام
حیدرآباد /12 جون ( سیاست نیوز) صدارتی انتخابات سے عین قبل قومی سیاست میں خود کو متحرک کرنے چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ نے قومی سیاسی جماعت بھارت راشٹرا سمیتی کے قیام کا فیصلہ کیا ہے۔ علاقائی جماعت کو قومی جماعت میں تبدیل کرنے سے متعلق فیصلہ پر خود ٹی آر ایس میں اختلاف رائے ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ چندر شیکھر راؤ نے جب وزراء اور اہم قائدین کے ساتھ اجلاس میں قومی جماعت کی تجویز پیش کی تو بعض قائدین نے سابقہ تجربات کی روشنی میں چیف منسٹر کو فیصلہ پر نظرِ ثانی کا مشورہ دیا۔ کے سی آر نے اس مشورہ پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا اور وسیع تر مشاورت کی تجویز پیش کی۔ مرکز کی بی جے پی حکومت سے بڑھتے اختلافات کے سبب کے سی آر صدارتی انتخابات سے قبل قومی سیاست میں خود کو توجہ کا مرکز بنانا چاہتے ہیں تاکہ مرکز کے دباؤ کو کم کیا جاسکے۔ ذرائع کے مطابق ٹی آر ایس کو قومی جماعت میں تبدیل کرنا تو آسان ہے لیکن دیگر ریاستوں میں توسیع دینا چیلنج سے کم نہیں ۔ سابق میں کئی پارٹیاں قومی سطح پر اپنا وجود قائم کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ تلگودیشم، جنتا دل سیکولر، جنتا دل یونائٹیڈ، ایس پی اور بی ایس پی اگرچہ قومی جماعتوں کا دعویٰ کرتی ہیں لیکن وہ علاقائی جماعتوں سے اپنی شناخت اور طاقت نہیں رکھتیں۔ بائیں بازو کی جماعتیں جو کبھی قومی سیاست میں اہم رول ادا کرچکی ہیں آج وہ چند ریاستوں تک محدود ہوچکی ہیں۔ ان حالات میں ٹی آر ایس کیلئے ہندی بیلٹ میں توسیع پانا آسان نہیں ہے۔ الیکشن کمیشن کے قواعد کے مطابق کسی بھی پارٹی کو 4 ریاستوں میں مقابلہ کرکے مقررہ فیصد ووٹ حاصل کرنا ضروری ہے۔ قواعد کی تکمیل کے بعد ہی اسے قومی جماعت کا درجہ حاصل ہوپائیگا۔ ٹی آر ایس کیلئے ٹاملناڈو، کیرالا ، مغربی بنگال و دیگر ریاستوں میں مقابلہ آسان نہیں ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ کے سی آر قومی پارٹی کے قیام کی سرگرمیوں کے ذریعہ بی جے پی کے ساتھ مائینڈ گیم کھیل رہے ہیں۔ وہ مرکز کو تلنگانہ کے خلاف فیصلوں سے روکنا چاہتے ہیں۔ ہندوستان جو مختلف زبانوں اور مذاہب کا مجموعہ ہے اس میں تلگو تہذیب کے بیاک گراؤنڈ کے ساتھ علاقائی جماعت کا قومی جماعت میں تبدیل ہونا آسان نہیں ۔ ڈی ایم کے و بیجو جنتا دل اپنی ریاستوں میں مضبوط ہیں اور انہوں نے توسیع پسندی کی کوشش نہیں کی۔ مبصرین کے مطابق آئندہ ماہ حیدرآباد میں بی جے پی کے قومی عاملہ اور صدارتی انتخابات کے پس منظر میں قومی پارٹی کے قیام سے متعلق سرگرمیاں منصوبہ بند حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ پارٹی قائدین کی اختلاف رائے کا کے سی آر کس حد تک احترام کریں گے۔ر