ٹی آر ایس کے سابق رکن اسمبلی اور صدرنشین ضلع پریشد منچریال کی کانگریس میں شمولیت

   

دہلی میں پرینکا گاندھی نے استقبال کیا، مادیگا طبقہ کو نظرانداز کرنے کا الزام، متحدہ عادل آباد ضلع میں ٹی آر ایس کو جھٹکہ
حیدرآباد۔19۔ مئی (سیاست نیوز) تلنگانہ میں برسر اقتدار ٹی آر ایس کو آج اس وقت ایک بڑا جھٹکہ لگا جب سابق رکن اسمبلی این اوڈیلو اور منچریال کی صدرنشین ضلع پریشد این بھاگیہ لکشمی نے کانگریس میں شمولیت اختیار کرلی۔ نئی دہلی میں اے آئی سی سی قائد پرینکا گاندھی سے ملاقات کرتے ہوئے ان دونوں نے مقامی ٹی آر ایس قائدین کے ہمراہ کانگریس میں شمولیت اختیار کرلی۔سابق رکن اسمبلی اوڈیلو اور ان کی شریک حیات بھاگیہ لکشمی کی کانگریس میں شمولیت کے بعد ضلع میں پارٹی کا موقف مستحکم ہوسکتا ہے کیونکہ اوڈیلو تلنگانہ تحریک میں نہ صرف سرگرم رہے بلکہ وہ دلتوں اور قبائل میں غیر معمولی مقبولیت رکھتے ہیں۔ صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی اور سابق ڈپٹی چیف منسٹر دامودر راج نرسمہا کے ہمراہ دونوں قائدین نے پرینکا گاندھی سے ملاقات کی ۔ پرینکا گاندھی نے کانگریس میں استقبال کرتے ہوئے انہیں پارٹی کا کھنڈوا پہنایا۔ پرینکا گاندھی نے تلنگانہ میں دلتوں اور قبائل کو پارٹی سے قریب کرنے کیلئے کام کرنے کا مشورہ دیا ۔ اس موقع پر سابق گورنمنٹ وہپ اے انیل ، جنرل سکریٹری آل انڈیا یوتھ کانگریس انیل کمار یادو اور دیگر قائدین موجود تھے۔ اوڈیلو 2009 اور 2014 ء میں ٹی آر ایس کے ٹکٹ پر اسمبلی کیلئے منتخب ہوئے۔ تلنگانہ تحریک کے دوران 2010 ء میں انہوں نے اسمبلی کی نشست سے استعفیٰٰ دے دیا تھا اور ضمنی چناؤ میں کامیابی حاصل کی۔ 2014 ء میں وہ گورنمنٹ وہپ کے عہدہ پر فائز رہے۔ ضلع میں ٹی آر ایس پارٹی میں بڑھتے اختلافات کے سبب دونوں نے کانگریس میں شمولیت کا فیصلہ کیا۔ اس موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ سابق رکن اسمبلی این اوڈیلو اور ان کی شریک حیات بھاگیہ لکشمی نے راہول گاندھی کی دعوت پر کانگریس میں شمولیت اختیار کی ہیں۔ وہ ٹی آر ایس کے تاسیسی رکن ہیں ۔ ورنگل میں کسانوں کے حق میں جاری کردہ ڈکلیریشن سے متاثر ہوکر سونیا گاندھی کی قیادت میں کام کرنے کیلئے کانگریس میں شمولیت اختیار کی۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر نے تلنگانہ میں مادیگا طبقہ کو نظر انداز کردیا ہے۔ مسلسل ناانصافیوں سے عاجز آکر انہوں نے کانگریس میں شمولیت کا فیصلہ کیا۔ ٹی آر ایس برسر اقتدار آنے پر مادیگا طبقہ سے انصاف کا وعدہ پورا نہیں ہوا۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ وقت آچکا ہے کہ تلنگانہ عوام کے سی آر کی قیادت کو مسترد کردیں۔ انہوں نے کہا کہ اوڈیلو اور ان کی شریک حیات کو کانگریس میں مناسب مقام دیا جائے گا۔ ان کی شمولیت سے متحدہ عادل آباد ضلع میں کانگریس پارٹی مستحکم ہوگی۔ سابق رکن اسمبلی اوڈیلو نے کہا کہ ان کی شریک حیات صدرنشین ضلع پریشد کے عہدہ سے مستعفی ہوچکی ہیں۔ تلنگانہ میں کسان اورکمزور طبقات کئی مشکلات سے دوچار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کے قیام سے خدمات انجام دینے کے باوجود 2018 ء میں ٹکٹ سے محروم کردیا گیا۔ اس وقت سے مسلسل ناانصافیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ میری اہلیہ کو ضلع پریشد صدرنشین کا عہدہ تو دیا گیا لیکن کوئی پروٹوکول نہیں ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ٹی آر ایس کے رکن اسمبلی بی سمن فون پر دھمکیاں دے رہے ہیں۔ مسلسل توہین سے عاجز آکر میں نے کانگریس میں شمولیت اختیار کرلی۔ ر