پارلیمنٹ مارچ کی اپیل سے مودی حکومت گھبراگئی، وانگچک کو زبردستی اٹھوا لیا گیا

   

مودی کو اندازہ ہوگیا تھا کہ وانگچک کی آواز پورے ملک میں ایک بڑی عوامی تحریک میں تبدیل ہوسکتی ہے، سنجے سنگھ کا ایکس پر پیغام

نئی دہلی۔ 18 جولائی (یو این آئی) عام آدمی پارٹی نے 21 روز سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے معروف ماہرِ تعلیم سونم وانگچک کو زبردستی اٹھا کر اسپتال میں داخل کرانے کے اقدام پر سخت تنقید کی ہے ۔پارٹی کے سینئر رہنما اور رکنِ پارلیمنٹ سنجے سنگھ نے آج ایکس پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ مودی حکومت سونم وانگچک کی پارلیمنٹ تک پُرامن مارچ کی اپیل سے خوف زدہ ہو گئی ہے ۔ اسی لیے صبح سویرے جنتر منتر پر پولیس بھیج کر نوجوانوں پر لاٹھی چارج کرایا گیا اور سونم وانگچک کو زبردستی اسپتال میں داخل کرا دیا گیا تاکہ اس تحریک کو کچل دیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ 20 جولائی کو پارلیمنٹ تک نکالے جانے والے مارچ میں ملک بھر کے نوجوان، عوام اور مختلف سیاسی جماعتوں کے اراکینِ پارلیمنٹ شریک ہونے والے تھے ۔ وزیرِ اعظم نریندر مودی کو اندازہ ہو گیا تھا کہ سونم وانگچک کی آواز پورے ملک میں ایک بڑی عوامی تحریک کی شکل اختیار کر سکتی ہے ، اس لیے اسے دبانے کی کوشش کی گئی۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ 59 سالہ سونم وانگچک گزشتہ 21 دنوں سے غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر تھے اور اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر ان کروڑوں نوجوانوں کی آواز بلند کر رہے تھے جن کا مستقبل پرچہ لیک ہونے کے واقعات سے تباہ ہو چکا ہے ۔ نوجوان بے بس تھے اور ان کی آواز اٹھانے والا کوئی نہیں تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیرِ اعظم نے 21 دن تک نہ تو ان سے بات کی اور نہ ہی ایک پیغام جاری کرکے ان سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کی۔ حکومت کا کوئی نمائندہ بھی ان سے یہ جاننے نہیں پہنچا کہ وہ اپنی جان خطرے میں ڈالنے پر کیوں مجبور ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج اطلاع ملی کہ اچانک پولیس کی بھاری نفری جنتر منتر پہنچی، پورے علاقے کا محاصرہ کر لیا، نوجوانوں پر لاٹھیاں برسائیں اور سونم وانگچک کو زبردستی اٹھا کر اسپتال میں داخل کرا دیا۔ ان کے مطابق ایسا اس لیے کیا گیا کیونکہ وانگچک نے 20 جولائی کو عوام، نوجوانوں، اراکینِ پارلیمنٹ اور اراکینِ اسمبلی سے اپیل کی تھی کہ وہ جنتر منتر سے پارلیمنٹ تک پُرامن مارچ کریں، جہاں پارلیمنٹ کا اجلاس شروع ہونے والا ہے ۔ سنجے سنگھ نے الزام لگایا کہ وزیرِ اعظم کو معلوم تھا کہ یہ تحریک بڑی شکل اختیار کر سکتی ہے ، اسی لیے دہلی کے پولیس کمشنر کو تبدیل کرکے ایسا افسر تعینات کیا گیا جس کے ذریعے سونم وانگچک کو گرفتار کیا جا سکے ۔ انہوں نے وزیرِ اعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اقتدار کا اتنا غرور مناسب نہیں کہ ہر آواز کو لاٹھی، گولی اور آنسو گیس سے دبایا جائے ۔
کبھی کسانوں کی تحریک کو کچلنے کی کوشش کی جاتی ہے ، کبھی نوجوانوں کی اور کبھی ماؤں اور بہنوں کے احتجاج کو۔ یہ جمہوری سیاست کا درست طریقہ