پرتاپ گڑھ: پیس پارٹی کے قومی صدر ڈاکٹر ایوب سرجن نے کہا کہ بیرونی ملکوں خصوصی طور سے سعودی عربیہ و کویت جانے والے بے روزگاروں کے سامنے اس وقت پاسپورٹ دفتر سے پولیس کلیرینس سرٹیفیکٹ ضروری ہونے کے سبب مزید مسلہ ہے ۔پاسپورٹ دفتر سے پولیس کلیرینس سرٹیفیکٹ جاری کرنے میں تاخیر ہونے کے سبب ملازمت کی امید میں سعودی عربیہ و کویت جانے والے بے روزگاروں کو ویژا ملنے کے بعد بھی پولیس کلیرینس سرٹیفیکٹ نہ ملنے کے سبب وہ جانے سے محروم ہو جاتے ہیں ۔پاسپورٹ دفتر سے پولیس کلیرینس سرٹیفیکٹ جاری کرنے کے نام پر بے روزگاروں سے پندرہ سے بیس ہزار روپے کھلے عام رشوت لی جا رہی ہے ۔پاسپورٹ دفتر میں رشوت کے سبب بدعنوانی عروج پر ہے . انہوں نے خلیجی ملکوں کو جانے کی خواہش رکھنے والے بے روزگاروں کے لئے پولیس کلیرینس سرٹیفیکٹ ضروری کرنے پر اپنے ردعمل میں مذکورہ تاثرات کا اظہار کیا ۔ڈاکٹر ایوب سرجن نے کہا کہ ملک کے زیادہ تر بے روزگار خصوصی طور سے مسلم طبقے کے بے روزگار خلیجی ملکوں خصوصی طور سے سعودی عربیہ و کویت جاتے ،اور وہاں سے غیرملکی کرنسی ملک میں بھیج کر یہاں کے اقتصادی نظام کو مضبوط بنانے کا کام کررہے ہیں ،مگر اب پولیس کلیرینس سرٹیفیکٹ ضروری کرنے کے سبب ان کے سامنے مزید مسلہ ہے ۔پاسپورٹ دفتر سے جاری کئے جانے والے پولیس کلیرینس سرٹیفیکٹ کے لئے بے روزگاروں کو رشوت دینے کے بعد بھی چکر کاٹنا پڑتا ہے ، جس سے وقت و پیسہ دونوں برباد ہورہا ہے ۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سعودی عربیہ و کویت جانے والے بے روزگاروں کے مسائل کے تصفیہ کے لئے آن لائن کے عمل کا آغاز ،اور یہ یقینی بنایا جائے کہ تین روز کے اندر پاسپورٹ دفتر سے پولیس کلیرینس سرٹیفیکٹ جاری کیا جائے ،جس سے بے روزگاروں کا وقت برباد نہ ہو ،اور ویژا ملنے کے بعد تعین وقت پر وہ روزگار حاصل کرنے کے لئے آسانی سے جا سکیں ۔ ڈاکٹر ایوب سرجن نے کہا کہ خلیجی ملکوں میں جانے کی خواہش رکھنے والے مسلم بے روزگار یہاں سے کس طرح قرض وغیرہ لے کر پاسپورٹ بنواتے و ویژا کا پیسہ خرچ کرتے ہیں ،مگر اب پولیس کلیرینس سرٹیفیکٹ ضروری ہونے سے مزید مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔مرکزی حکومت سے مطالبہ ہے کہ بے روزگاروں کے مسائل کو دیکھتے ہوئے پولیس کلیرینس سرٹیفیکٹ کے عمل کو آسان بنایا ،اور پاسپورٹ دفتر میں رشوت لینے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے ،جس سے بے روزگاروں کے مسائل کا تصفیہ ہو سکے ۔