واشنگٹن : ورلڈ بینک نے پاکستان کے لیے ایک ارب 10 کروڑ کے دو قرضوں کی منظوری ا?ئندہ مالی سال تک موخر کر دی ہے۔برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز نے پاکستان کے وزارت خزانہ کے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قرضوں کی منظوری جون سے زیر التوا ہے جبکہ پاکستان کا اگلا مالی سال اپریل میں شروع ہوگا۔ذرائع نے بتایا کہ ’بڑا مسئلہ توانائی کے شعبے میں سرکلر ڈیٹ مینجمنٹ پلان اور ٹیرف پر نظرثانی ہے۔ یہ اقدامات ہماری طرف سے التوا کا شکار ہیں۔‘روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق سٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس موجود زرمبادلہ کے ذخائر رواں ماہ کے شروع میں کم ہو کر چار ارب 30 کروڑ ڈالر پر آگئے ہیں جو تین ہفتوں کی درآمدات کے لیے مشکل سے کافی ہیں جبکہ عالمی مالیاتی فنڈ کی جانب سے قرض کی قسط بھی تین ماہ سے تاخیر کا شکار ہے۔اسٹیٹ بینک نے کہا تھا کہ پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ دسمبر 2022 میں ایک ارب نوے کروڑ ڈالر سے کم ہو کر 40 کروڑ ڈالر پر آ گیا ہے۔اسٹیٹ بینک کے مطابق دسمبر کے اعداد و شمار کا مطلب ہے کہ پاکستان جولائی 2022 میں شروع ہونے والے مالی سال کی پہلی ششماہی میں اپنے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو تین ارب 70 کروڑ ڈالر تک لایا جو پچھلے مالی سال کی اسی مدت میں نو ارب ڈالر سے زیادہ تھا۔ پاکستان نے بیرونی فنانسنگ کی ضروریات کو کم کرنے کے لیے درآمدات کو روکنے کی کوشش کی ہے۔گذشتہ سال سیلاب کی تباہ کاریوں کے باعث اربوں ڈالر کا نقصان ہوا جس سے معیشت کی حالت دگرگوں ہے۔