ڈاکٹر محمد جلال محی الدین کا سفر تحریک کا باعث
حیدرآباد ۔ 14 ۔ اگست : ہر کامیاب ڈاکٹر کی ایک اسٹوری ہوتی ہے لیکن بعض لوگوں کا معاملہ جداگانہ ہوتا ہے کیوں کہ ان کی تعمیر نہ صرف بہتر تعلیمی مظاہرہ سے ہوتی ہے بلکہ اس میں ایثار ، ہمدردی اور مضبوط خاندانی اقدار کا بھی عمل دخل ہوتا ہے ۔ ڈاکٹر محمد جلال محی الدین کی زندگی بھی ، جو جناب مظہر محی الدین کے فرزند ہے ، اس طرح کی ایک تحریک پیدا کرنے والی اسٹوری ہے ۔ پرانے شہر حیدرآباد میں پیدا ہونے والے ڈاکٹر جلال محی الدین نے ایک مقامی اسکول میں تعلیم کا آغاز کیا جہاں ان کے عزم ، ڈسپلن اور ان کے والدین کی مسلسل حوصلہ افزائی سے ایک غیر معمولی کیرئیر کے لیے بنیاد پڑی ۔ اور ان کا تعلیمی سفر جاری رہا ہے اس طرح انہیں ایم بی بی ایس میں داخلہ ملا جس کی تکمیل کے بعد انہوں نے عثمانیہ میڈیکل کالج سے آرتھوپیڈکس میں ایم ایس کیا ۔ انہوں نے بین الاقوامی سطح پر مشہور کرسچن میڈیکل کالج ، ویلور میں پیڈیٹرک آرتھوپیڈکس میں اسپیشلائزڈ ٹریننگ حاصل کی ۔ یونائٹیڈ اسٹیس میڈیکل لائسینسنگ امتحان میں 99 فیصد نشانات کے ساتھ شاندار کامیابی حاصل کی جس سے امریکہ میں ان کے لیے مواقع کھل گئے ۔ ان کے قریبی لوگوں کے مطابق انہوں نے بیرون ملک میں طویل مدتی کیرئیر کو اختیار نہیں کیا کیوں کہ وہ ہندوستان میں رہنا چاہتے تھے ۔ ان کی فیملی کے قریب اور اپنی کمیونٹی کے لوگوں کے لیے خدمات انجام دینا چاہتے تھے ۔ مریضوں کے بہتر علاج ، اخلاق اور سرجیکل مہارت کی وجہ آج ڈاکٹر جلال کا احترام کیا جاتا ہے ۔ مریض انہیں ایک ہمدرد فزیشین قرار دیتے ہیں ۔ ڈاکٹر جلال کی اہلیہ ایک انیستھیسیولوجسٹ ہیں ، نظامس انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسیس میں ٹریننگ حاصل کی ہیں ۔ ان دونوں کے چار بچے ہیں ۔ سرجیکل کیرئیر کی مصروفیت کے باوجود وہ خاندان اور دوستوں میں بچوں پر بھرپور توجہ دینے والے باپ ، ایک اچھے شوہر ، ایک فرمانبردار فرزند اور ایک معاون بھائی کے طور پر جانے جاتے ہیں ۔ ڈاکٹر جلال کی زندگی نوجوان طلبہ کے لیے تحریک کا باعث ہے ۔۔ a/m/b