پرانے شہر میں میٹرو ریل کے قیام کیلئے سڑکوں کی توسیع کا کام جاری

   

170 متاثرین میں 80 کروڑ روپئے معاوضہ کی تقسیم: این وی ایس ریڈی
حیدرآباد۔ 25 جنوری (سیاست نیوز) میٹرو ریل کے مینیجنگ ڈائریکٹر این وی ایس ریڈی نے بتایا کہ پرانے شہر میں میٹرو ٹرین کی تعمیرات کیلئے سڑکوں کی توسیع کا کام تیزی سے جاری ہے۔ ایم جی بی ایس سے چندرائن گٹہ تک میٹرو ریل کی تعمیر کیلئے 1,100 جائیدادوں کی نشاندہی کی گئی ہے، جن میں سے 170 جائیدادوں کو حاصل کرتے ہوئے معاوضہ کے طور پر 80 کروڑ روپئے دیئے گئے ہیں۔ آئندہ چند دنوں میں مزید 80 کروڑ روپئے فراہم کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ پرانے شہر کے عوام میٹرو ریل کی تعمیر میں مکمل تعاون کررہے ہیں۔ چند متاثرین کی جائیدادوں کے دستاویزات کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ تاحال 270 مالکین جائیداد نے رضاکارانہ طور پر اپنی جائیدادوں کو میٹرو ریل کی تعمیر کیلئے فراہم کیا ہے۔ میٹرو ریل کے مینیجنگ ڈائریکٹر نے کہا کہ پہلے مرحلے میں 69 کیلومیٹر تک میٹرو ریل چلائی جارہی ہے۔ دوسرے مرحلے میں 200 کیلومیٹر تک میٹرو ریل کو توسیع دینے کی حکمت عملی تیار کی گئی ہے۔ ای وی جپ ادارہ کی جانب سے پہلی مرتبہ خواتین کیلئے حیدرآباد میں خواتین ہی خدمات انجام دیں گی۔ فرسٹ اینڈ لاسٹ مائیل کنٹیوٹی کے نام سے متعارف کئے گئے الیکٹرک 2 وہیلرس اور کیابس کو جھنڈی دکھاکر روانہ کرنے کے بعد خطاب کرتے ہوئے این وی ایس ریڈی نے یہ بات بتائی۔ انہوں نے کہا کہ میٹرو ریل سے روزانہ تقریباً 5 لاکھ افراد سفر کرتے ہیں، ان میں سے 1.25 لاکھ افراد کو اس رائیڈ کی سہولت فراہم کی جائے گی، جنہوں نے کہا کہ پہلے مرحلے میں یہ گاڑیاں پریڈ گراؤنڈ سکندرآباد ایسٹ اسٹیشن سے ملکاجگری، سینک پوری، ای سی آئی ایل جیسے علاقوں میں زیادہ چلائی جائے گی ، اس کے بعد بہت جلد ان کی خدمات توسیع دی جائے گی۔ 2