پرانے شہر میں میٹرو ٹرین نئی برانڈ امیج

   

کانگریس حکومت کا صحیح وقت پر درست قدم
حیدرآباد ۔ 7 ڈسمبر (سیاست نیوز) حیدرآباد میٹرو ریل پراجکٹ کو مرکزی حکومت نے 2003ء میں منظوری دی تھی۔ جیسے جیسے حیدرآباد ترقی کرتا گیا، ایم ایم ٹی ایس کے پاس ٹرانسپورٹ کیلئے ناکافی صلاحیت تھی۔ مرکزی وزارت شہری ترقی نے حیدرآباد میٹرو ریل کی پراجکٹ کی تعمیری منظوری دی۔ دہلی میٹرو ریل کارپوریشن کو اس کا سروے کرنے کی ہدایت دی۔ جڑواں شہر حیدرآباد و سکندرآباد میں سڑکوں کی بڑھتی ہوئی ٹریفک کو کم کرنے کیلئے ریاستی حکومت اور ساوتھ سنٹرل ریلوے نے مشترکہ طور پر اگست 2005ء میں ایم ایم ٹی ایس کا آغاز کیا تھا۔ ابتدائی منصوبہ میں یہ تھا کہ میٹرو موجودہ ایم ایم ٹی ایس کے ساتھ منسلک ہو تاکہ مسافروں کو ٹرانسپورٹ کے متبادل طریقے فراہم کئے جاسکے۔ اس کے ساتھ ایم ایم ٹی ایس دوسرے مرحلہ کی تعمیر شروع کرنے کی تجویز کو بھی آگے بڑھایا گیا۔ 2007ء میں این وی ایس ریڈی کو حیدرآباد میٹرو ریل لمیٹیڈ کا ایم ڈی مقرر کیا گیا اور اسی سال مرکزی حکومت نے 1639 کروڑ کی مالی امداد کو منظوری دی۔ حیدرآباد میٹرو ابتدائی طور پر آندھراپردیش میونسپل ایکٹ 2008(39) کے تحت شروع ہوئی اور بعد میں یہ سنٹرل میٹرو ایکٹ کے تحت آئی۔ 26 مارچ 2018ء کو حکومت تلنگانہ نے اعلان کیا کہ وہ ایک SPV حیدرآباد ایرپورٹ میٹرو لمیٹیڈ قائم کرے گی جسے ایچ ایم آر ایل اور ایچ ایم ڈی اے نے مشترکہ طور پر فروغ دیا تھا تاکہ بلیو لائن کو رائے درگ سے راجیو گاندھی انٹرنیشنل ایرپورٹ شمس آباد تک بڑھایا جاسکے۔ حیدرآباد میٹرو ریل نٹ ورک اس ماہ کے آخر میں شروع ہونے والا ہے جو دوسرے مرحلہ کے ساتھ توسیع کرنے کیلئے تیار ہے جو پرانے شہر کیلئے 24,269 کروڑ روپئے کے بجٹ کے ساتھ شروع ہوگا جو76,4 کیلو میٹر تک پھیلی ہوئی ہیں۔ موجودہ کانگریس حکومت کی جانب سے تجویز کردہ پانچ نئے راہداریوں کی حد ہے۔ شہر حیدرآباد کے علاقہ میں میٹرو ریل کے کام کے آغاز پر 400 سے زائد جائیدادوں کو منہدم کیا جائے گا۔ میٹرو ریل پراجکٹ کا آغاز دارالشفاء سے شاہ علی بنڈہ تک 3.5 کیلو میٹر کے رقبے میں ہوگا جس کی مارکنگ کا آغاز بھی ہوچکا ہے۔ حیدرآباد میٹرو ریل پراجکٹ کی وسعت سے اس کی نئی برانڈ امیج بنے گی۔ حیدرآباد کی عوام کیلئے ٹریفک کے مسائل اور ٹرانسپورٹ سے متعلق دیگر پریشانیوں کو کم کرنے کیلئے ایک مؤثر اور طویل مدتی حل کی متلاشی ہیں۔ یہ منصوبہ یقیناً صحیح وقت پر ایک درست قدم ہے۔ یہ شہر کیلئے ایک اعزاز ہے جو اپنے مستقبل کو امید اور اطمینان کے ساتھ دیکھ رہا ہے۔ میٹرو اسٹیشنوں کو جمالیاتی طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے۔ حیدرآباد میٹرو اسٹیشن پر بہت ہی خصوصیت ہیں جیسے لفٹ، ایسکلیئرز، مختلف سمتوں میں سیڑھیاں، جدید آڈیو فیکیشن سسٹم، مسافروں کی سہولت کیلئے اے ٹی ایم سنٹر، ریسٹ روم، خودکار ٹکٹ وینڈنگ مشین اور کئی دوسرے صارف جیسے رئیل اسپنسرز جو بغیر کسی پریشانی کے خریداری کے تجربہ کو پیش کرتے ہیں، حیدرآباد میٹرو ریل جو 28 نومبر 2017ء کو میاں پور تا ناگول تک 30 کیلو میٹر پر 24 اسٹیشن پر واقع ہے۔ جسے وزیراعظم نریندر مودی نے افتتاح کیا تھا۔ پرانے شہر میں میٹرو ریل کے کام کے آغاز کے ساتھ یہاں کی رونق میں اضافہ ہوگا اور ساتھ ہی زمین کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوگا۔ ش