پرانے شہر کا دودھ باؤلی علاقہ ناقص سڑکوں اور گندگی کا مرکز

   

سڑکوں کی کھدائی کے بعد ملبہ کی عدم صفائی ، ٹریفک حادثات میں اضافہ

حیدرآباد۔17۔ فروری (سیاست نیوز) پرانے شہر میں ترقیاتی کاموں سے متعلق حکومت کے دعوے کھوکھلے ثابت ہوئے ۔ سڑکوں کی توسیع اور واٹر اور ڈرینج کی نئی پائپ لائین کے لئے کھدائی کے بعد ملبہ کو سڑک پر چھوڑ دیا گیا جس کے نتیجہ میں ٹریفک حادثات پیش آرہے ہیں۔ عام طور پر عید اور تہواروں سے قبل سڑکوں کی مرمت اور صفائی کا کام انجام دیا جاتا ہے لیکن پرانے شہر کا دودھ باؤلی علاقہ سڑک پر گندگی اور ملبہ کی عدم صفائی کے سبب عوامی مشکلات میں اضافہ کا سبب بن چکا ہے۔ مقامی افراد نے شکایت کی ہے کہ شب معراج اور شیوراتری کے باوجود بلدی حکام نے صفائی کا کام انجام نہیں دیا۔ سڑک پر موریوں اور ڈرینج کا گندا پانی مسلسل بہہ رہا ہے اور جابجا گڑھوں میں پانی جمع ہونے سے ٹو وہیلر گاڑیوں کو حادثات پیش آرہے ہیں۔ شب معراج کے موقع پر مساجد میں مصلیوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے لیکن دودھ باؤلی کے علاقہ میں مصلیوں کو گندہ پانی سے ہوکر گزرنا پڑ رہا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ سڑکوںکی مرمت اور ملبہ کی صفائی کے بارے میں متعلقہ رکن اسمبلی اور کارپوریٹ سے بارہا نمائندگی کی گئی لیکن کسی نے توجہ نہیں دی۔ دودھ باؤلی چوراہا مصروف ترین علاقہ ہے اور اس علاقہ میں بلدیہ کی لاپرواہی عوام کیلئے زحمت کا باعث بن چکی ہے۔ دکانات کے روبرو ملبہ کی عدم صفائی سے گاہکوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ حلقہ اسمبلی چارمینار کے کئی علاقے کئی علاقے بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ سڑکوں کی کھدائی کے بعد ملبہ کی عدم صفائی کے نتیجہ میں رات کے اوقات میں جان لیوا ٹریفک حادثات پیش آرہے ہیں۔ سڑکوں پر گندگی اور پانی جمع ہونے سے مچھروں کی افزائش ہورہی ہے جس کے نتیجہ میں مختلف وبائی امراض پھیلنے کا اندیشہ ہے ۔ مقامی عوام نے وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی راما راؤ سے اپیل کی ہے کہ وہ علاقہ کا دورہ کرتے ہوئے مسائل کا جائزہ لیں اور عوام کو راحت پہنچائیں۔ر