پرانے ووٹرس کو دوبارہ اندراج کیلئے فارم 6 جمع کرانے کی اجازت

   

ڈرافٹ لسٹ سے نام غائب ہونے پر الیکشن کمیشن کی اہم ہدایات، غلط اندراج کے شبہ پر کوئی کارروائی نہیں ہوگی

حیدرآباد، 4 نومبر (سیاست نیوز)الیکشن کمیشن آف انڈیا نے ان پرانے ووٹرس کے لیے ایک بڑا اور اہم فیصلہ سنایا ہے جن کے نام ووٹر لسٹ کے ڈرافٹ سے غائب ہو گئے تھے۔ الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ایسے تمام پرانے ووٹرس اپنے ناموں کے دوبارہ اندراج کے لیے بلا خوف دوبارہ فارم 6 جمع کرا سکتے ہیں۔ عام طور پر فارم 6 میں یہ اقرار نامہ شامل ہوتا ہے کہ ’میں پہلی بار بطور ووٹر اندراج کروا رہا ہوں‘، جس کی وجہ سے پرانے ووٹرس میں یہ اندیشہ پایا جاتا تھا کہ انہیں غلط معلومات فراہم کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے تاہم الیکشن کمیشن کے اس تازہ فیصلے نے تمام شکوک و شبہات کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔ یہ اہم پیشرفت سپریم کورٹ میں دہلی ایس آئی آر کے عمل اور بڑے پیمانے پر ووٹرس کے نام خارج کیے جانے سے متعلق کیس کی سماعت کے بعد سامنے آئی ہے۔ سپریم کورٹ کے سخت تبصروں اور ظاہر کردہ خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے الیکشن کمیشن نے واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ عوامی نمائندگی ایکٹ کی دفعہ 31 کے تحت ان پرانے ووٹرس کے خلاف غلط اعلان پر کوئی مقدمہ درج نہیں کیا جائے گا۔ الیکشن کمیشن نے یہ بھی واضح کیا کہ پہلی بار ووٹر رجسٹریشن والی شق کی بنیاد پر نہ تو درخواست مسترد کی جائے گی اور نہ ہی کوئی قانونی کارروائی کی جائے گی۔الیکشن کمیشن نے اپنے احکامات میں کہا ہے کہ تکنیکی وجوہات یا فہرستوں کی ترمیم کی وجہ سے حق رائے دہی سے محروم ہونے والے شہری بغیر کسی خوف کے فارم 6 کے ذریعہ دوبارہ رجسٹریشن کروا سکتے ہیں۔ اس فیصلے کا بنیادی مقصد ووٹر رجسٹریشن کے عمل میں شفافیت لانا اور یہ یقینی بنانا ہے کہ کوئی بھی اہل شہری اپنے جمہوریت کے بنیادی حق یعنی حق رائے دہی سے محروم نہ رہے۔2