پابندی جلد ختم کرنے اور آمدنی بحال کرنے عہدیداروں کو توقع
حیدرآباد۔8۔ستمبر(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ کی جانب سے ریاست میں نئے ریوینیو قوانین کے نفاذ کے لئے تاحکم ثانی جائیدادوں کے رجسٹریشن پر عائد کی گئی پابندی سے حکومت کو یومیہ 23کروڑ کا نقصان برداشت کرنا پڑرہا ہے۔ریاستی حکومت کی جانب سے گذشتہ ماہ کے اواخر میں غیر منظورہ لے آؤٹس اور بغیر اجازت تعمیر کی گئی عمارتوں کے رجسٹریشن پر پابندی عائد کی گئی تھی اور اس وقت رجسٹریشن کے عمل سے ریاستی حکومت کو یومیہ قریب 40 کروڑ کی آمدنی حاصل ہورہی تھی اور غیر منظورہ لے آؤٹس اور بغیر اجازت تعمیر کئے گئے مکانات کے رجسٹریشن پر پابندی عائد کئے جانے کے بعد حکومت کو رجسٹریشن سے حاصل ہونے والی آمدنی گھٹ کر 23 کروڑ ہوگئی تھی جو کہ منظورہ لے آؤٹس اور پلاٹس کے علاوہ اجازت ناموں کے ساتھ تعمیر کی گئی جائیدادوں کی فروخت سے ہورہی تھی لیکن اب ریاستی حکومت کی جانب سے نئے قوانین کی منظوری اور نفاذ کے علاوہ ویلیج ریونینو آفیسر کے عہدہ کی برخواستگی اور تحصیلدار کو رجسٹریشن کے اختیارات حوالہ کرنے کے اقدامات کے لئے تمام جائیدادوں کے رجسٹریشن کو بند کردیا گیا ہے جس کے سبب ریاستی حکومت کو یومیہ 23 کروڑ کا نقصان برداشت کرنا پڑرہا ہے۔محکمہ مال کے عہدیداروں نے بتایا کہ ریاستی حکومت کو ہونے والے نقصانات عارضی ہیں لیکن لاک ڈاؤن کے بعد جو صورتحال پیدا ہوئی تھی اس صورتحال میں یہ نقصان کافی اہمیت کے حامل تصور کئے جا رہے ہیں اسی لئے رجسٹریشن کے عمل کو جلد از جلد بحال کیا جانا ضروری ہے۔حکومت تلنگانہ کی جانب سے کئے گئے فیصلہ کے سلسلہ میں عہدیداروں کا کہناہے کہ حکومت کی وسیع منصوبہ بندی کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ حکومت کی جانب سے رجسٹریشن پرعائد کی گئی پابندی کو جلد ہٹایا جاسکتا ہے اور اس کے ساتھ ہی ریاستی حکومت کی آمدنی نہ صرف بحال کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے بلکہ ریاستی حکومت کو حاصل ہونے والی رجسٹریشن کے ذریعہ آمدنی میں اضافہ کے اقدامات بھی ممکن بنایا جائے گا۔ حکومت نے محکمہ ریونییو کے نئے قوانین کی تیاری اور اس کے نفاذ کے لئے جو منصوبہ تیار کیا ہے ان کے ذریعہ منظورہ لے آؤٹس میں پلاٹس کی حوصلہ افزائی اور سرکاری آمدنی میں اضافہ کیا جا رہاہے۔