پردیش کانگریس کے نئے صدر کے تقرر کے سلسلہ میں سرگرمیاں تیز

   

تمام طبقات سے مشاورت کی جائے گی، ریونت ریڈی ، سریدھر بابو اور وینکٹ ریڈی کے نام زیر گشت
حیدرآباد: گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن انتخابات کے اختتام کے ساتھ ہی کانگریس میں نئے ریاستی صدر کے تقرر پر سرگرمیوں کا آغاز ہوچکا ہے۔ لوک سبھا انتخابات کے بعد اتم کمار ریڈی نے ہائی کمان کو اپنا استعفیٰ روانہ کردیا تھا لیکن ہائی کمان نے متبادل انتظام تک برقرار رہنے کی ہدایت دی۔ حالیہ عرصہ میں نئے صدرپردیش کانگریس کے تقرر کے سلسلہ میں انچارج جنرل سکریٹری مانکیم ٹیگور نے سینئر قائدین سے مشاورت کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق بلدی انتخابات کے نتائج کے بعد ہائی کمان نئے صدر کے تقرر کی سرگرمیوں کا آغاز کرے گا ۔ توقع کی جارہی ہے کہ بہت جلد کانگریس کو تلنگانہ میں نیا صدر مل جائے گا۔ 2014 ء عام انتخابات سے دوباک کے ضمنی چناؤ تک ہر الیکشن میں کانگریس پارٹی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ لہذا تلنگانہ میں پارٹی کو دوبارہ مستحکم کرنے کیلئے نئے صدر کے تقرر کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔ بتایا جاتاہے کہ تلنگانہ میں بی جے پی کے اثر میں اضافہ کو دیکھتے ہوئے ہائی کمان کسی نوجوان قائد کو صدر بنانے کے حق میں ہے تاکہ ریاست گیر سطح پر پارٹی مستحکم ہو۔ تقرر سے قبل تمام طبقات سے وابستہ قائدین سے مشاورت کی جائے گی ۔ صدارت کیلئے کئی قائدین نے اپنی دعویداری پیش کردی ہے اور پسماندہ طبقات کی جانب سے ہائی کمان پر دباؤ بنایا جارہا ہے کہ بی سی طبقہ کو صدارت دی جائے ۔ صدارت کی دوڑ میں اگرچہ کئی قائدین ہیں لیکن رکن پارلیمنٹ ریونت ریڈی ، رکن اسمبلی سریدھر بابو اور رکن پارلیمنٹ کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی کے نام زیادہ تر گوشوں میں سنائی دے رہا ہے ۔ عہدہ کے خواہشمند قائدین اپنے اپنے طور پر ہائی کمان سے رجوع ہورہے ہیں اور ہائی کمان کے قریبی قائدین کی تائید حاصل کرنے کیلئے دہلی کا دورہ کر رہے ہیں۔ تلنگانہ کے انچارج جنرل سکریٹری مانکیم ٹیگور نے صدارت کے عہدہ پر عنقریب تقرر کا اشارہ دیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ موجودہ صدر اتم کمار ریڈی کو قومی سطح پر کوئی اہم ذمہ داری دی جاسکتی ہے ۔ ان کے حامیوں نے کانگریس ورکنگ کمیٹی میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ گریٹر انتخابی نتائج کی بنیاد پر نئے صدر کے نام پر غور و خوض کا امکان ہے ۔ ملکاجگیری ضلع کے حدود میں 48 بلدی ڈیویژنس ہیں جن میں اتم کمار ریڈی نے سرگرمی سے مہم چلائی تھی ۔ انہیں امید ہے کہ پارٹی 10 تا 15 نشستوں پر کامیابی حاصل کریگی ۔