پسینہ سے شوگر ٹسٹ کرنے کا ڈیوائس ایجاد

   

سوئی چبھا کر خون نکالنے کی تکلیف سے نجات ،آندھرا پردیش کے سائنسداں کا کارنامہ
حیدرآباد ۔ 3 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز) : ٹکنالوجی کی ترقی نے نیا آلہ دریافت کیا ہے ۔ شوگر ٹسٹ کے لیے اب سوئی چُبھا کر خون حاصل کرنے کے بجائے پسینے سے شوگر کی تشخیص کرنے کے لیے الیکٹرو کیمیکل ڈیوائس ایجاد کیا گیا ہے ۔ ذیابیطس ایک ایسی بیماری ہے جو ملک میں کروڑہا لوگوں کو متاثر کررہی ہے ۔ حال ہی میں 18 سال عمر سے کم عمر کے بچے بھی اس مرض میں مبتلا ہورہے ہیں اس بیماری کی تشخیص کے لیے ایک سوئی کے ذریعہ جسم سے خون لیا جاتا ہے ۔ یہ مریص کے لیے تکلیف دہ عمل ہے ۔ مزید چند لوگ سوئیوں کے خوف سے کانپتے ہیں ۔ لیکن پڑوسی ریاست آندھرا پردیش کے ضلع ایلور سے تعلق رکھنے والے سائنسداں پوساچرنجیوی سرینواس راؤ نے شوگر ٹسٹ کے لیے جسم میں سوئی چبھا کر خون نکالنے کی ضرورت کے بغیر کم قیمت پر ایک آلہ ایجاد کیا ہے ۔ صرف پسینے کے ذریعہ شوگر ٹسٹ کی تشخیص کرنے والے الیکٹروکیمیکل ڈیوائس کی دریافت کرنے کے بعد دو سال تک اس کی جانچ کی گئی جس کے بعد گزشتہ ماہ 29 دسمبر کو انڈین پیشنٹ اتھاریٹی نے اس کے پیشنٹ حقوق دئیے ہیں ۔ غریب گھرانے میں پیدا ہونے والے سرینواس راؤ نے سرکاری ڈگری کالج سے گریجویشن کی تعلیم حاصل کی ۔ اس کے بعد آندھرا یونیورسٹی سے پی جی کیا پھر پی ایچ ڈی بھی مکمل کیا اور فی الحال آئی آئی ٹی کانپور میں کیمیکل انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ میں بطور سائنسداں خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ جسم میں گلوکوز کی سطح کا تعین کرنے کے لیے خون نکالے بغیر صرف پسینہ کا ٹسٹ کرتے ہوئے اس ڈیوائس کے ذریعہ ذیابیطس ( شوگر ) کا صرف ایک منٹ میں اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔ سرینواس راؤ نے کہا کہ اس ڈیوائس کے دستیاب ہوجانے کے بعد عام اور متوسط طبقہ کے عوام کے لیے بہت کارآمد ثابت ہوگا اور اخراجات بھی بڑی حد تک گھٹ جائیں گے ۔۔ 2