پلواما میں کشمیری پنڈت کی آخری رسومات،مقامی مسلمان پیش پیش

   

سری نگر: جنوبی ضلع پلوامہ کے وشہ بوگ گاوں میں مقامی مسلمانوں نے مذہبی ہم آہنگی، اتحاد، انسانیت نوازی اور کشمیریت کی عمدہ مثال قائم کی ہے جہاں وہ ایک معمر کشمیری پنڈت کنہیا لال کی آخری رسومات انجام دینے میں پیش پیش رہے ۔آخری رسومات میں بیسیوں مقامی افراد بالخصوص نوجوانوں نے شرکت کی اور نم آنکھوں سے آنجہانی پنڈت کو رخصت کیا۔موصولہ اطلاعات کے مطابق ضلع پلوامہ کے وشہ بوگ علاقے میں کنہیا لال کا یہ خاندان اُن سینکڑوں کشمیری پنڈت خاندانوں میں ایک ہے جو گذشتہ تین دہائیوں کے نامساعد حالات کے دوران بھی کشمیری میں ہی مقیم رہے اور اپنے ہمسایہ مسلم برادری کے دکھ سکھ میں شامل حال رہے ۔گزشتہ شام جب 80 سالہ کنہیا لال کا انتقال ہوا، تو اس گاوں کے بیسیوں مسلمان اُن کی آخری رسومات انجام دینے میں پیش پیش رہے ۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ ‘گذشتہ شام جب معمر کنہیا لال کے انتقال کر جانے کی خبر گاوں میں پھیل گئی تو درجنوں کی تعداد میں مرد، زن، بچے اور بوڑے ان کے گھر پر پہنچ گئے ’۔مقامی مسلمانوں نے اتوار کو نہ صرف آنجہانی کی آخری رسومات سر انجام دیں بلکہ اُن کی ارتھی کو اپنے کندھوں پر اُٹھانے کے علاوہ چتا کو آگ لگانے کے لئے درکار لکڑی اور دوسری چیزیں مہیاں کیں۔ایک مقامی مسلمان نے بتایا: ‘ہم سب نے مل کر آنجہانی کی آخری رسومات انجام دی ہیں۔ جو پنڈت یہاں سے ہجرت کر چکے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ وہ واپس آجائیں۔ ہم ان کا شدت سے انتظار کر رہے ہیں’۔ان کا مزید کہنا تھا: ‘میڈیا میں پھیلایا جاتا ہے کہ کشمیر میں آپسی بھائی چارہ ختم ہو رہا ہے ۔ ہم ان سے کہنا چاہتے ہیں کہ کشمیر کے بھائی چارے میں کوئی کمی نہیں آئی ہے ۔ ہم اپنے پنڈت بھائیوں کے ساتھ مل کر اپنی زندگی گزر بسر کرنا چاہتے ہیں’۔