واشنگٹن : ہیومن رائٹس واچ نے اماراتی حکام پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے 15 ماہ سے زیادہ عرصے سے 2700 افغان شہریوں کو ’من مانی حراست‘ میں لے رکھا ہے جن کے پاس پناہ گزین ہونے یا دوسری جگہ آباد ہونے کا کوئی قانونی راستہ نہیں ہے۔رپورٹ کے مطابق ہیومن رائٹس واچ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان افغان شہریوں میں سے ایمریٹس ہیومینٹیرین سٹی میں مقیم بہت سے لوگ ڈپریشن اور دیگر نفسیاتی امراض میں مبتلا ہیں، انہیں لیگل کونسل تک رسائی حاصل نہیں ہے اور ان کے بچوں کے لیے تعلیمی سہولیات ناکافی ہیں۔ابو ظہبی میں موجود مرکز سے متعلق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رہائشی صورتحال بہت خراب ہو گئی ہے، قیدیوں نے گنجائش سے زیادہ لوگوں کی تعداد، انفراسٹرکچر کی خرابی اور کیڑوں کی موجودگی کی شکایات کیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہیومن رائٹس واچ کو متحدہ عرب امارات کی وزارت داخلہ اور خارجہ سے معاملے پر رد عمل دینے کی درخواستوں کا کوئی جواب نہیں ملا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانوں کی نقل مکانی کو دیکھنے والے ا مریکی محکمہ خارجہ کے دفتر نے ایک خط میں گروپ کو بتایا کہ اہل افغان شہریوں کو آباد کرنے کے لیے امریکہ کا عزم غیر متزلزل ہے۔