ملک کی کچھ ریاستوں میں آئندہ چند مہینوں میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ ان میں پنجاب بھی شامل ہے ۔ اترپردیش اور گجرات میں بھی الیکشن ہونا ہے ۔ ایسے میں کانگریس قیادت نے پنجاب میں پارٹی کی صفوں میں اتحاد و اتفاق کو یقینی بنانے کیلئے مہم شروع کردی ہے ۔ ان کوششوں کی ذمہ داری پارٹی نے راجستھان سے تعلق رکھنے والے لیڈر سچن پائلٹ کو سونپی ہے ۔ سچن پائلٹ سے قبل پنجاب میں کانگریس امور کے نگران سابق چیف منسٹر چھتیس گڑھ مسٹر بھوپیش بگھیل تھے ۔ تاہم بگھیل پنجاب کے متحارب گروپس میں اتحاد و اتفاق پیدا کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے تھے اور چونکہ انتخابات کیلئے وقت تیزی سے قریب آتا جا رہا ہے ایسے میں کانگریس اعلی قیادت نے یہ ذمہ داری تبدیل کردی اور مسٹر سچن پائلٹ کو یہ ذمہ داری دی گئی ہے ۔ سچن پائلٹ کو راجستھان کانگریس میں بھی اختلافات کو ختم کرنے اور بی جے پی کے خلاف متحدہ مقابلہ کی راہ ہموار کرنے کا تجربہ حاصل ہے ۔ سچن پائلٹ نے راجستھان میں کانگریس کے داخلی اختلافات کو ختم کرنے میں اہم رول نبھایا تھا جس کے بعد وہاں کانگریس کو اقتدار بھی حاصل ہوا تھا ۔ اسی تجربہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے کانگریس قیادت نے سچن پائلٹ کو پنجاب کی ذمہ داری سونپی ہے اور سچن پائلٹ نے فوری اپنی مہم کی شروعات بھی کردی ہے ۔ وہ پنجاب پہونچے اور انہوں نے کانگریس کے تمام گروپس اور قائدین سے ملاقاتیں کرتے ہوئے انہیں داخلی اختلافات کو ختم کرتے ہوئے ایک کاز کیلئے متحد ہو کرم قابلہ کرنے کی اہمیت کو سمجھانے کی کوشش کی ۔ اب سچن پائلٹ کا کہنا ہے کہ پارٹی کے تمام قائدین نے ان سے آپسی اتحاد و اتفاق کے ساتھ مقابلہ کرنے کیلئے رضامندی کا اظہار کیا ہے ۔ سچن پائلٹ کی یہ ابتدائی کامیابی ہے تاہم یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ یہ مسئلہ اتنی آسانی سے اور اتنی جلدی حل ہونے والا نہیں ہے اس کیلئے مسلسل کوششوں کی ضرورت ہوگی ۔ ابتدائی بات چیت سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا کہ اختلافات کو دور کرلیا گیا ہے ۔
سچن پائلٹ یقینی طور پر راجستھان میں حالات کو قابو میں کرنے کا تجربہ رکھتے ہیں اور وہ سنجیدہ اور ہائی کمان کے قریبی قائدین میں شمار کئے جا تے ہیں۔ وہ پارٹی کے تئیں اپنی ذمہ داریوں کو بھی اچھی طرح سے سمجھتے ہیں ۔ ان کی کوششوں میںکوئی کمی نہیں رہ سکتی تاہم پنجاب کانگریس کے قائدین کو صورتحال کی اہمیت اور نزاکت کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ پنجاب کے قائدین کے ساتھ ہائی کمان کو خود بھی رابطے رکھنے ہونگے ۔ ان سے بات چیت کرنی ہوگی ۔ جن قائدین اور گروپس کی شکایات اور ناراضگیاں واجبی ہیں انہیں دور کیا جانا چاہئے ۔ انہیں اعتماد میں لیا جانا چاہئے اور اگر ضرورت پڑ جائے تو کسی طرح کے سخت فیصلے کرنے میں بھی کوئی گریز نہیں کرنا چاہئے ۔سخت فیصلے کرنے میں کسی طرح کی تاخیر نہیں کی جانی چاہئے اور وقت رہتے ہی فیصلہ کرنے کی ضـرورت ہے ۔ ایسے تمام قائدین کو یکجا کرنے کی ضرورت ہے جو پارٹی مفادات کیلئے کام کرتے ہوں اور جو پارٹی کی کامیابی کو یقینی بنانے سنجیدگی سے جدوجہد میں یقین رکھتے ہوں ۔ آپسی اختلافات تقریبا ہر پارٹی میں ہوتے ہیں لیکن ان کو بنیاد بنا کر پارٹی کے انتخابی مفادات کو متاثر کرنے کی اجازت کسی کو بھی نہیں دی جانی چاہئے ۔ تمام فریقین اور قائدین پر یہ واضح کردیا جانا چاہئے کہ پارٹی کے انتخابی مفادات اورا س کی کامیابی سب کیلئے مقدم ہونی چاہئے اور اس ایجنڈہ پر کسی کے ساتھ کوئی بھی سمجھوتہ نہ کیا جاسکتا ہے اور نہ کیا جائے گا ۔
پارٹی اور اس کے تمام قائدین کو یہ بات قبول کرنی چاہئے کہ پارٹی کو زیادہ تر نقصان اکثر و بیشتر داخلی اختلافات اور رنجشوں کی وجہ سے ہوا ہے ۔ کچھ قائدین کی انا نے پارٹی کے انتخابی امکانات کو متاثر کیا ہے ۔ مخالف جماعتوں سے مقابلہ اور ان کے مقابلہ میں جیت و ہار جمہوری عمل کا حصہ ہے لیکن مقابلہ سے قبل اپنی صفوں کو متحد کرنا ضروری ہے اور جو داخلی رنجشیں اور مسائل ہیں ان پر کوئی سمجھوتہ کئے بغیر ان کو قبل از وقت ہی دور کرنے پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے اور یہی پارٹی کے حق میں بہتر ہوگا ۔