پنسلوینیا: امریکی صدارتی امیدوار کیلئے فیصلہ کن ریاست

,

   

نیویارک : امریکہ میں منگل 5 نومبر کو صدارتی امیدوار کے انتخاب کیلئے رائے دہی کا آغاز ہوگیا۔ مختلف ٹائم زون کے اعتبار سے ہندوستانی معیارِ وقت (IST) لگ بھگ 10 گھنٹے آگے ہے۔ سابق صدر ری پبلکن پارٹی کے ڈونلڈ ٹرمپ اور ڈیموکریٹ امیدوار (موجودہ نائب صدر) کملا ہیرس کے درمیان سخت مقابلے کی توقع ہے۔ ریپبلکن امیدوار ٹرمپ نے اپنی شریک حیات میلانیا کے ہمراہ پام بیچ کے پولنگ اسٹیشن پہونچ کر اپنے حق رائے دہی سے استفادہ کیا۔ اُنھوں نے اِس موقع پر دعویٰ کیا کہ اُن کی انتخابی مہم بہترین رہی ہے اور وہ بلاشبہ ڈیموکریٹ حریف امیدوارہ کملا ہیرس کو شکست دیں گے۔ پنسلوینیا کو کلیدی حیثیت حاصل ہے جو نئے امریکی صدر کے انتخاب میں اہم رول ادا کرسکتی ہے۔ صدارتی انتخاب میں سات ریاستوں کو کسی بھی امیدوار کی جیت کے لئے اہم قرار دیا جا رہا ہے اور ان ساتوں ریاستوں میں شامل ریاست پینسلوینیا ممکنہ طور پر وہ واحد ریاست ہو گی جو کسی بھی امیدوار کی کامیابی کا فیصلہ کرے گی۔پینسلوینیا کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ امریکہ کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے امیدوار ڈیموکریٹک پارٹی کی کاملا ہیرس اور ان کے مدِ مقابل ری پبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابی مہم کے دوران سب سے زیادہ جلسے اسی ریاست میں کیے ہیں۔پیر کو انتخابی مہم کے آخری روز بھی کاملا اور ٹرمپ نے پینسلوینیا میں گزارا اور عوامی اجتماعات سے خطاب کیے۔دونوں ہی امیدواروں کے لیے وائٹ ہاو?س کا راستہ اسی ریاست سے گزرتا ہے۔ اس لیے اس ریاست کو ان امیدواروں کے لیے ‘مسٹ وِن’ یعنی سب سے لازمی کہا جا رہا ہے۔واضح رہے کہ امریکہ کے صدارتی الیکشن میں کسی بھی امیدوار کو جیت کے لیے 538 میں سے کم از کم 270 الیکٹورل ووٹ درکار ہوتے ہیں۔پولز کے مطابق 43 ریاستیں ایسی ہیں جہاں ٹرمپ اور ہیرس واضح برتری رکھتے ہیں۔فیصلہ کن ریاستوں اور سوئنگ اسٹیٹس میں ایریزونا، جارجیا، مشی گن، نیواڈا، نارتھ کیرولائنا، پینسلوینیا اور وسکونسن شامل ہیں۔رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق ٹرمپ اور کاملا کے درمیان پینسلوینیا میں کانٹے کا مقابلہ ہے اور ریاست کے کسی بھی کونے کے چند ووٹرز بھی فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں۔انیس الیکٹورل ووٹوں کے ساتھ پینسلوینیا کا شمار امریکہ کی بڑی ریاستوں میں ہوتا ہے۔ لیکن یہاں کے نتائج کے بارے میں پیش گوئی کرنا بہت مشکل ہے۔ریاست پینسلوینیا پہلے ڈیموکریٹس کا مضبوط قلعہ سمجھی جاتی تھی۔لیکن 2016 کے الیکشن میں ٹرمپ نے اس ریاست سے اپنے مدِ مقابل ڈیموکریٹک امیدوار ہیلری کلنٹن کو شکست دے کر ڈیموکریٹک پارٹی کے قلعے میں شگاف ڈالا تھا۔لیکن 2020 کے صدارتی انتخاب میں پینسلوینیا پھر ڈیموکریٹس کے پاس چلی گئی تھی اور موجودہ صدر جو بائیڈن نے ٹرمپ کے مقابلے میں 81 ہزار ووٹوں سے یہاں کامیابی حاصل کی تھی۔پینسلوینیا صدر جو بائیڈن کی ہوم اسٹیٹ ہے جو یہاں کے شہر اسکرینٹن میں پلے بڑھے ہیں۔ اسی وجہ سے حالیہ برسوں میں اس ریاست میں ری پبلکن پارٹی کا اثر بڑھا ہے۔